خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 78
خطابات شوری جلد سوم ۷۸ مشاورت ۱۹۴۴ء بنیاد سائنس پر بتائی جاتی ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ کسی سائنس پر اُن کی بنیاد نہیں ہوتی بلکہ تھیوریوں اور نظریوں پر ان اعتراضات کی بنیاد ہوتی ہے لیکن بتایا یہ جاتا ہے کہ مشاہدہ اسلامی تعلیم کو باطل ثابت کر رہا ہے۔یہ ایک ایسا حربہ ہے جس کا نوجوانوں کے قلوب پر گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ اسلام سائنس کے خلاف تعلیم دیتا ہے۔یہ ایک زہر ہے جو اندر ہی اندر قلوب میں پھیلایا جا رہا ہے۔ایک آگ ہے جو اسلام کے خلاف بھڑکائی جا رہی ہے اور ہر شخص جو اسلام کے دشمنوں کی صف میں کھڑا ہے وہ اپنے پنے علم کو لے کر اسلام پر حملہ آور ہو رہا ہے۔کوئی اقتصادی اصول کے ماتحت اسلام پر حملہ کر رہا ہے، کوئی فلسفی اصول کے ماتحت اسلام پر حملہ کر رہا ہے، کوئی منطقی اصول کے ماتحت اسلام پر حملہ کر رہا ہے، کوئی علم النفس کے ماتحت اسلام پر حملہ کر رہا ہے، کوئی کیمسٹری کے اصول کے ماتحت اسلام پر حملہ کر رہا ہے حالانکہ کئی نقطہ ہائے نگاہ سے غور کرنا ضروری ہوتا ہے مگر وہ اُن مختلف نقطہ ہائے نگاہ کی بجائے صرف ایک دو نظریوں پر اکتفا کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ با قاعدہ تحقیق اور علمی معلومات کے نتیجہ کے طور پر انہوں نے ایک بات پیش کی ہے۔گویا وہ ایک تھیوری کو حقیقت کی شکل دے دیتے ہیں اور سائنس کا نام لے کر قلوب کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ایک چیز کے متعلق دو یا تین یا چار نظریے بھی ہو سکتے ہیں۔یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایک ہی نظریہ ہو اور نظریہ بھی ایسا جو نا قابل انکار ہو۔وہ لوگ چونکہ اسلام کے خلاف ہمیشہ اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہیں اس لئے کوئی نہ کوئی تھیوری ایسی پیدا کر لیتے ہیں جس سے بادی النظر میں اسلام پر زد واقع ہوتی ہے لیکن ہمارے پروفیسر کبھی اس بات کی جدو جہد نہیں کرتے کہ اُن امور پر اس نقطہ نگاہ سے غور کریں کہ وہ کہاں تک اسلامی تعلیم کے مطابق ہیں۔اگر وہ کوشش کریں تو انہیں اسلام کی تائید میں اسی قسم کے بیسیوں نظریے مل سکتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر وہ حقیقی سائنس سے اسلامی اصول کی برتری اور اُن کی صداقت اور ان کی باریک در بار یک حکمت کو بھی پیش کر سکتے ہیں۔کالج کے اجراء کا مقصد میرا مقصد اس کالج کے اجراء سے یہی ہے کہ ہمارے پروفیسر تازہ علوم پر اسلامی تعلیم کی روشنی میں غور کریں اور ایسی تحقیقات کریں جو سائنس کے علوم کے ماتحت اسلامی تعلیم کی برتری ثابت کرنے والی ہو۔