خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 74

خطابات شوری جلد سوم ۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کہ ہمارا مال تمہارا مال۔بلکہ ہمارا مال کہنے کے ساتھ ہی ہیں ہیں ہیں ہیں اُس کی زبان سے نکل گیا۔اسی قسم کا نمونہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں نے دکھایا کہ تمہارا مال ہمارا مال اور ہمارا مال میں ہیں ہیں ہیں۔جب اپنے مال کا سوال آیا تو وہ خاموش ہو گئے حالانکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان تھا جو ہماری جماعت کا ہوا مگر اس امتحان پر بہت سے لوگوں کے دل گھبرا گئے اور اُنہوں نے سمجھا کہ معلوم نہیں اب کیا ہو جائے گا۔میں یہ نہیں کہتا کہ ساروں نے ایسا نمونہ دکھایا ہے۔بہت سے مخلص ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس آواز کے سُنتے ہی اپنی جائیدادیں وقف کر دیں بلکہ بعض عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے اصرار کیا کہ ہم سے زیوارت لے لئے جائیں۔میں نے کہا ابھی ہم ایک پیسہ لینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔اس وقت صرف اس بات کا مطالبہ ہے کہ اپنی جائیدادوں کو وقف کرنے کا اقرار کیا جائے۔یہ مطالبہ نہیں کہ اپنی جائیدادیں فروخت کر کے دے دی جائیں۔بعض عورتوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کسی اور ضرورت پر ہم سے یہ زیور فروخت ہو جائے اس لئے ابھی ہم سے لے لیا جائے مگر میں نے کہا اب ہم کسی سے کوئی روپیہ نہیں لے رہے۔ایک اور عورت کا ذکر ہے وہ آئی اور اُس نے کہا میرا زیور لے لیا جائے مگر جب اُسے یہ جواب دیا گیا تو وہ میری ایک بیوی سے کہنے لگیں آپ میرا زیور اپنے پاس امانتا رکھیں اور جب مطالبہ ہو اُس وقت دے دیں میں اپنے پاس نہیں رکھتی ممکن ہے کسی اور ضرورت پر خرچ ہو جائے۔تو کئی مردوں اور عورتوں نے اپنے اخلاص کا نہایت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایسے لوگوں کی تعداد سینکڑوں سے کم نہیں ہے مگر ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنی جائیدادوں کو پیش نہیں کیا۔میں سمجھتا ہوں اب وقت آ گیا ہے کہ جماعت اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور اس وسوسہ کو اپنے دل سے نکال دے کہ اگر میں نے اس میں حصہ لیا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔دنیا میں بہت سی قربانیوں میں حصہ لینے سے انسان اس لئے محروم رہتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے اگر میں نے حصہ لیا تو معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔لیکن اگر انسان اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لے کہ کچھ بھی ہو میں اپنا مال سب کا سب قربان کر دوں گا تو پھر قربانی خواہ کسی شکل میں اُس کے سامنے آئے ، امتحان خواہ کوئی رنگ بدل کر آئے ، اُس کا