خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 742 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 742

خطابات شوری جلد سوم ۷۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۶۱ء میں بیمار اور کمزور ہوں جس کی وجہ سے نہ تو میں مجلس شوریٰ میں زیادہ دیر بیٹھ سکتا ہوں اور نہ ہی اس کی کارروائی میں اُس طرح حصہ لے سکتا ہوں جس طرح پہلے لیا کرتا تھا بلکہ اس مجلس مشاورت میں تو شرکت سے ہی معذور ہوں لیکن اس لئے کہ میں دُعا کے ساتھ مجلس مشاورت کا افتتاح کر دوں باوجود بیماری اور کمزوری کے عزیزم مرزا بشیر احمد کے ہاتھ یہ مختصر سا افتتاحی پیغام بھجوا رہا ہوں اور دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مشورے وہی بابرکت احتیاط اور غور و فکر سے مشورہ دیں مشورے ہوتے ہیں جو صحت نیت اور اخلاص کے ساتھ جماعتی مفاد کی غرض سے دیئے جائیں اور جن میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قائم کردہ سلسلہ کی بہبودی کو مدنظر رکھا گیا ہو۔اگر آپ لوگ اپنے مشوروں میں اس روح کو قائم رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے کاموں میں ہمیشہ برکت رکھے گا اور آپ کے مشوروں کے اچھے نتائج پیدا کرے گا لیکن اگر آپ لوگوں نے بھی کسی وقت یہ دیکھنا شروع کر دیا کہ زید یا بکر کی کیا رائے ہے اور یہ نہ دیکھا کہ سلسلہ کا مفاد کس امر میں ہے تو آپ کے کاموں میں برکت نہیں رہے گی اور آپ کے مشورے محض رسمی بن کر رہ جائیں گے اور خدائی نصرت کو کھو بیٹھیں گے۔پس آپ لوگوں پر ایک بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہے۔آپ لوگ جب مشورہ دینے کے لئے جمع ہوتے ہیں تو درحقیقت آپ ایک ایسے راستہ پر قدم مارتے ہیں جو تلوار کی دھار سے بھی زیادہ تیز اور بال سے بھی زیادہ باریک ہے۔پس آپ لوگ بڑی احتیاط اور غور وفکر کے ساتھ مشورہ دیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ئیں بھی کرتے رہیں کہ وہ حق آپ کی زبان پر جاری کرے اور آپ کو ایسے فیصلوں پر پہنچنے کی توفیق بخشے جو سلسلہ کے لئے مفید اور اس کی دینی اور روحانی اور تنظیمی اور مالی حالت کو