خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 735
خطابات شوری جلد سوم ۷۳۵ مشاورت ۱۹۵۹ء ہسپتال، سکول، کالج اور مساجد بنائی جاسکتی ہیں۔ہر شہر میں اس تجویز پر عمل کرنا مشکل ہے لیکن اگر ہر ڈویژن میں بھی بن جائیں تب بھی بڑی بات ہے۔اور پھر خدا چاہے گا تو وہ وقت بھی آ جائے گا کہ ہر شہر میں ہماری مسجد بھی ہو ، ہسپتال بھی ہو ،سکول بھی ہو اور کالج بھی ہو۔پھر اگر تنظیم مضبوط ہوگی تو جماعت کی تعداد بھی بڑھ جائے گی اور حسب ضرورت مساجد میسر آتی رہیں گی اور آباد ہوتی رہیں گی مگر جماعتیں لاہور کی طرح نہ کریں۔لاہور میں ہمیں گمٹی بازار والی مسجد مل رہی تھی لیکن خواجہ کمال الدین صاحب نے چار ہزار روپیہ لے کر حق تولیت فروخت کر دیا۔پھر حکیم محمد حسین صاحب مفرح عنبری والوں نے میاں فیملی والوں سے زمین حاصل کر کے مسجد تعمیر کی اور وہی آج تک ہمارے کام آ رہی ہے اگر لاہور والے مسجد کی تعمیر کا کام شروع کر دیں تو میرے خیال میں وہاں لاکھوں روپیہ جمع کیا جا سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے لوگوں میں اس نیکی کا احساس ہے۔مثلاً یورپ کی مساجد کے سلسلہ میں میں نے تحریک کی تو ایک زرگر کا لڑکا ایک دفعہ میرے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ یہ دو ہزار روپیہ میری والدہ نے دیا ہے اور اُس کی خواہش ہے کہ اسے مسجد میں لگا دیا جائے۔اب دیکھو وہ معمولی زرگر تھے لیکن اُنہوں نے دو ہزار روپیہ دے دیا۔لاہور میں تو ہمارے بہت سے زرگر ہیں، وہاں چار پانچ لاکھ روپیہ آسانی سے جمع کیا جا سکتا ہے۔“ اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت دعا کروائی اور گیارہ بجے قبل دو پہر مجلس شوری کا اجلاس برخواست ہوا۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۹ء )