خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 728 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 728

خطابات شوری جلد سوم ۷۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء ’ماتھے ران تھی۔مجھے یاد ہے کہ ہم پہلی بار وہاں گئے۔ماموں جان بھی ساتھ تھے ہم دونوں بحث کرتے گئے کہ ریلوے والوں نے تو لکھا ہے کہ یہ ایک سیر گاہ ہے مگر ہے یہ جنگل اور ریتلا علاقہ۔بہر حال چٹانوں سے ریل گزرتی چلی گئی اور جونہی ایک طرف مڑی تو وہ جگہ آگئی۔اسی طرح سکیسر ہے۔گویا یہ ہمارے علاقہ کی ماتھے ران“ ہے۔بہر حال میں چاہتا تھا کہ شوریٰ کی کارروائی آج ختم ہو جائے تا دوست بھی واپس جا سکیں اور میں بھی کل صبح واپس چلا جاؤں۔تا مجھے زیادہ گرمی کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔باقی دوست دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت عطا فرمائے۔حضرت ابراہیم علیہ ا دیکھ لو۔آپ نہ صرف خود نبی تھے بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا بھی تھے۔آپ فرماتے ہیں۔وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشفِينِ کے جب میں بیمار ہوتا ہوں تو صرف خدا ہی مجھے شفا دیتا ہے۔۱۹۵۴ء میں میرے بچنے کی کیا اُمید تھی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ میں ایک دن کا مہمان ہوں۔پھر میں یورپ گیا وہاں جا کر علاج سے اتنا فائدہ ہوا کہ میں نے سارے یورپ کا موٹر پر سفر کیا۔پھر واپس آیا تو ۱۹۵۶ء میں مری گئے۔وہاں بھی صحت اچھی رہی۔۱۹۵۷ء میں جابہ گئے۔ابتدائی حصہ سال میں تو اچھا رہا لیکن بعد میں میری طبیعت خراب ہو گئی۔۱۹۵۸ء میں بھی خراب رہی۔جولائی ۱۹۵۷ء تک میں کسی قدر اچھا تھا۔جولائی تک میں اجابت کے لئے چوکی پر بیٹھ سکتا تھا۔اب سات آٹھ ماہ سے طبیعت خراب ہے لیکن جس خدا نے پہلے شفا دی تھی وہ اب بھی شفا دے سکتا ہے اُس کے ہاتھ میں شفا ہے۔ڈاکٹر ایک دوائی کے متعلق خاص طور پر زور دیتے ہیں کہ اگر میں اُس کے ٹیکے کروالوں تو اس سے فائدہ ہو گا لیکن میں نے ایک جرمن ڈاکٹر سے مشورہ کیا تھا تو اُس نے کہا تھا کہ آپ منہ کے راستہ دوائی کھا لیا کریں ، ٹیکا نہ لگوایا کریں۔اس سے فائدہ تو ہوا لیکن مرض ابھی تک گئی نہیں۔اب ٹھنڈی جگہ جائیں گے تو وہاں ٹیکے بھی لگوالیں گے۔یورپ میں میرا جو معالج تھا اُس کے کئی پیغام آچکے ہیں کہ آپ وہ ٹیکے ضرور لگوائیں ، آپ کا علاج وہی ہے، ہاں ڈوز (Dose) چھوٹی کر لیں اور روز ٹیکا لگوانے کی بجائے ہفتہ میں ایک دفعہ لگوا لیں مگر لگوائیں ضرور۔بہر حال خیال ہے کہ ٹھنڈی جگہ جا کر اس کا تجربہ بھی کر لیں گے۔ایک دفعہ ناصر آباد میں میں نے یہ ٹیکا کروایا تھا، اس سے فائدہ ہوا تھا۔واپسی پر سارے رستہ میں