خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 727
خطابات شوری جلد سو ۷۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء نہیں کروا سکتا۔ٹیکے بھی یہاں رہ کر نہیں لگواسکتا کیونکہ وہ بھی گرم ہیں اس لئے میرا ارادہ تھا کہ جابہ واپس چلا جاؤں۔وہاں یہ آرام ہے کہ انسان کمرہ بند کر کے اندر بیٹھ سکتا ہے۔یہاں گرمی کی وجہ سے ہوا لطیف ہو کر اوپر چڑھ جاتی ہے۔نیچے ایک خلا رہ جاتا ہے جسے پُر کرنے کے لئے ارد گرد کے علاقوں کی ہوا تیز چل کر اس خلا کو پُر کرنے کے لئے آتی ہے اور پھر وہ ہوائیں چونکہ گرم علاقہ سے گزر کر آتی ہیں اس لئے وہ بھی گرم ہوتی ہیں لیکن جابہ چونکہ ٹھنڈا ہے اس لئے گرم علاقوں کی طرح ہوائیں خلا پُر کرنے کے لئے نہیں آتیں۔پھر ارد گرد کے علاقے ٹھنڈے ہیں اس لئے جو ہوا آتی ہے وہ بھی ٹھنڈی ہوتی ہے۔یہاں تو ہوا ئیں اتنی گرم ہوتی ہیں کہ جسم کو جھلس دیتی ہیں۔میں نے ایک آدمی مری میں کوٹھی لینے کے لئے بھی بھجوایا ہوا ہے۔اگر کوٹھی مل گئی تو وہاں اور بھی ٹھنڈک ہو گی۔پہلے یہ خیال تھا کہ ہم سکیسر چلے جائیں وہ بھی ٹھنڈی جگہ ہے اور پھر وہ جگہ جابہ سے بہت قریب ہے۔ہم صبح کا ناشتہ کر کے دو پہر سے پہلے وہاں پہنچ سکتے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ مجھے سیکیسر میں گنٹھیا کا دورہ ہو جاتا ہے اور اگر بیماری میں نئی بیماری پیدا ہو جائے تو اس کا علاج بڑا لمبا ہو جاتا ہے۔پچھلے چار ماہ میں مجھے یہی شبہ رہا ہے کہ میری گنٹھیا کی بیماری بڑھ گئی ہے اس لئے ڈر آتا ہے کہ وہاں جانے سے اگر خدانخواستہ گاؤٹ ہو گیا تو مشکل پیدا ہو جائے گی۔۱۹۵۲ء میں میں وہاں گیا تو مجھے گاؤٹ کی اتنی خطرناک تکلیف ہوئی تھی کہ مجھے سہارا دے کر موٹر میں بٹھا کر لایا گیا۔پھر ایک ڈاکٹر لاہور سے بلایا گیا یعنی ڈاکٹر بلوچ صاحب کو بلایا گیا۔اب تو وہ فوت ہو چکے ہیں ان کے دماغ میں رسولی ہو گئی تھی جس کا آپریشن ہوا تو وہ فوت ہو گئے۔اُن کے علاج سے مجھے فائدہ ہوگا۔تو بیماری سے بچنے کیلئے احتیاط لازمی چیز ہے۔اُن دنوں ہم سکیسر میں صرف سات دن رہے تھے اور گنٹھیا کی مرض ہو گئی تھی لیکن اس دفعہ یہ احتیاط کر لیں گے کہ صبح گئے اور شام کو واپس آگئے۔تا زیادہ دیر ٹھہرنے کی وجہ سے بیماری کا دورہ نہ ہو جائے۔مری میں کوٹھی مل گئی تو وہاں چلے جائیں گے ورنہ جا بہ میں رہیں گے اور روزانہ سکیسر چلے جایا کریں گے۔سکیسر بھی ڈلہوزی کی طرح بہت ٹھنڈی جگہ ہے۔تعجب آتا ہے کہ ریتلے علاقہ میں پانچ ہزار فٹ بلند جگہ ہے۔مری اس سے صرف ایک دو ہزار فٹ زیادہ بلند ہے۔بہر حال سکیسر بڑی خوبصورت اور چھوٹی سی جگہ ہے جیسے بمبئی کے پاس ,,