خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 721 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 721

خطابات شوری جلد سوم ۷۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء۔نئے سکول جاری کریں گے مگر یہ اُس وقت ہو سکتا ہے جب ہمارا بجٹ بڑھ جائے۔جب ہمارا بجٹ لاکھوں سے نکل کر کروڑوں کا ہو جائے گا تو پھر ہم ڈھا کہ میں بھی ہائی سکول جاری کریں گے، کراچی میں بھی ہائی سکول جاری کریں گے، راولپنڈی، ملتان، ایبٹ آباد، لاہور، لائکپور اور سرگودھا میں بھی ہائی سکول جاری کریں گے لیکن بہر حال یہ بات مرکز کے اختیار میں ہوگی۔ہم کسی ایک ضلع کی جماعت کو یہ اختیار نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی مرضی سے ایک سکول کھولے اور مرکز پر اُس کے اخراجات کا بوجھ ڈال دے۔آخر گھٹیالیاں، کراچی ، لاہور یا لائکپور کی طرح نہیں کہ جماعت اپنے بچے وہاں تعلیم کیلئے بھیجے۔ربوہ میں وہ اپنے بچے اس لئے بھیجتی ہے کہ یہ مرکز ہے اور یہاں سلسلہ کے علماء رہتے ہیں۔ان سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے جماعت کے لوگ یہاں آتے ہیں لیکن کون پاگل ہے جو کراچی ، ملتان یا کسی اور شہر سے اپنے بچے گھٹیالیاں بھیجے گا۔پس ایسی تجاویز پر نظارت یا صدر انجمن احمد یہ خود غور کر لیا کرے، ہمیں ان پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ تجویز جو ایجنڈا میں تجویز نمبرا کے طور پر دکھائی گئی ہے اس کی ابتدائی منظوری بھی اس شرط پر دی گئی تھی کہ لوگ چندہ دیں گے تو بچوں کو وظیفہ دے دیا جائے گا۔اب اس کے متعلق مزید منظوریاں لینا پائینچا پکڑنے والی بات ہے۔پس میں اس کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“ دوسرا دن احمدیت کی ترقی کے لئے دعاؤں کی ضرورت ۲۶۔اپریل ۱۹۵۸ء کو جلس مشاورت کے دوسرے اجلاس میں حضور نے ابتدائی دعا سے قبل اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے دُعاؤں کی ضرورت واضح کرتے ہوئے فرمایا : - اب تمام دوست میرے ساتھ مل کر دُعا کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دُور فرمائے اور اپنے فضل سے اسلام اور احمدیت کی ترقی کے سامان پیدا کرے۔یہاں تک کہ