خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 720 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 720

خطابات شوری جلد سوم ۷۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء 66 فرمایا اے لوگو! میں ایک غلام بیچنا چاہتا ہوں کیا کوئی خریدار ہے؟ اس صحابی نے بڑی افسردگی سے کہا یا رسول اللہ ! کیا اس دُنیا میں میرا بھی کوئی خریدار ہوسکتا ہے؟ میں تو نہایت حقیر اور بدصورت ہوں، مجھے کون خریدے گا۔آپ نے فرمایا ایسا مت کہو تم بے شک دُنیا کی نظر میں حقیر ہولیکن خدا تعالیٰ کی نگاہ میں تمہاری بڑی قیمت ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نظروں میں کوئی قیمت دیدے تو یہ کام جو ہمارے سپرد ہے ہوسکتا ہے ورنہ یہ کام نہایت بوجھل اور بھاری ہے اور اس کو سرانجام دینا ہماری اپنی طاقتوں کے لحاظ سے بڑا مشکل ہے۔اس کے بعد حضور نے مجلس شوری کے ایجنڈے پر غور کرنے کے لئے ایک سب کمیٹی مقرر فرمائی۔جس میں ۲۹ / افراد شریک کئے گئے۔صرف نظارت تعلیم کی اُس تجویز کو حضور نے پیش کرنے کی اجازت نہ دی جس میں آئندہ سال کے لئے انسپکٹر کی آسامی جاری رکھنے کی استدعا کی گئی تھی۔حضور نے فرمایا : - میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جو چیز ہے ہی مشروط بآمد ، اُس کو شوری کے اجلاس میں پیش کرنا شوری کا وقت ضائع کرنا ہے اگر کوئی اچھی چیز ہے اور جماعت کے دوست اس کے لئے چندہ دے رہے ہیں تو اس پر عمل کیا جائے اور اگر وہ چندہ نہیں دے رہے اور اس تجویز کو ناپسند کرتے ہیں تو جماعت اُس کی ذمہ داری کیوں لے۔ایسی ہی ایک تجویز ناظر صاحب تعلیم نے یہ بھی پیش کی تھی جسے میں نے مستر دکر دیا کہ گھٹیالیاں کے ہائی سکول کو ہائر سیکنڈری سکول (Higher secondery School) بنایا جائے۔جب شروع شروع میں یہ سکول جاری کیا گیا تو اس علاقہ کی جماعتوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مدد دیں گی لیکن اُنہوں نے کوئی مدد نہ کی پھر وہ سکول مڈل ہوا پھر ہائی ہوا اور پھر بھی علاقہ کی جماعتوں نے کوئی مدد نہ کی لیکن ناظر صاحب نے تجویز پیش کر دی کہ اس سکول کو ہائر سیکنڈری سکول بنا دیا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ربوہ میں بھی ایک ہائی سکول موجود ہے جس کا بوجھ جماعت اُٹھا رہی ہے لیکن یہ مرکز ہے اور مرکزی ادارہ کے لئے چندہ دینا ساری جماعت کا فرض ہوتا ہے لیکن جو سکول ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں ہو اُس کے لئے چندہ دینا تمام جماعت کا فرض نہیں۔ہاں اُس علاقہ کی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اُس کے سارے بوجھ کو اُٹھا ئیں۔بے شک اگر ہم میں طاقت ہو تو ہم باہر کے علاقوں میں بھی