خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 719 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 719

خطابات شوری جلد سوم وا مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء کئی لڑائیوں میں شامل ہوا مگر میری ہمیشہ خواہش رہی کہ کاش ! میں ان لڑائیوں میں شامل نہ ہوتا اور یہ فقرات میری زبان سے نکلتے۔یہ فدائیت اور قربانی کا وہ عظیم الشان نمونہ تھا جو صحابہ رضوان اللہ علیہم نے ہمارے سامنے پیش کیا اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اسی قسم کا نمونہ دکھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں طاقت دے کہ ہم اسلام کے جھنڈے کے دائیں بھی لڑیں اور بائیں بھی لڑیں ، آگے بھی لڑیں اور پیچھے بھی لڑیں اور اُس وقت تک دم نہ لیں جب تک کہ کفر کی چوٹی پر اسلام کا جھنڈا نہ گاڑ دیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ کام بہت بڑا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہاتھوں ہی انجام تک پہنچ سکتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے اس کام کا ایک ذریعہ بنایا ہے ورنہ اس کی تکمیل کے سامان وہ خود ہی کر سکتا ہے ہمارے بس کی یہ بات نہیں۔یہ ایسا ہی ہے جیسے بعض صوفیاء نے کہا ہے کہ خود کوزه و خود کوزه گر و خود گل کوزه اللہ تعالیٰ آپ ہی کو زہ ہے، آپ ہی اس کوزہ کو بنانے والا ہے اور آپ ہی کوزہ کی مٹی ہے اور پھر وہ کوزہ بازار میں فروخت کے لئے رکھتا ہے تو آپ ہی اس کا خریدار بن کر آ جاتا ہے اور اسے خرید لیتا ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ صداقت بھی خدا کی ہے اور ہم جو اس صداقت کے علم بردار ہیں، ہمیں بھی خدا تعالیٰ نے ہی بنایا ہے اور پھر جس مٹی سے ہم بنے ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ ہے۔اگر بازار میں ہماری کوئی قیمت پڑے گی تو تبھی پڑے گی جب خدا تعالیٰ ہمارا خریدار ہو۔پھر چاہے تو ہمیں تو ڑ دے اور چاہے تو ہمیں پیمانہ بنالے یہ اُس کے فضل وکرم پر منحصر ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازار میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک صحابی کھڑے ہیں یہ صحابی سخت بدصورت تھے اور بازار میں مزدوری کا کام کرتے تھے۔اُس وقت اُن کا جسم پسینہ سے شرابور تھا اور ان کے چہرہ پر حسرت برس رہی تھی۔آپ نے اُنہیں دیکھا تو بچوں کی طرح پیچھے سے آ کر اُن کی آنکھوں ނ پر ہاتھ رکھ دیا۔آپ کا جسم چونکہ نازک تھا اس صحابی نے انگلیوں کی نرمی اور ملائمت آپ کو پہچان لیا اور پیار سے اپنا میلا جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن کے ساتھ ملنا شروع کر دیا۔پھر آپ نے اس کی آنکھوں پر سے اپنے دونوں ہاتھ ہٹا لئے اور