خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 706
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء آج بھی کچھ نہ کچھ کام کرنے کی توفیق مل گئی۔اس قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی جس کے متعلق میں سمجھوں کہ کام میں روک پیدا ہوئی ہے لیکن جب تک ڈاکٹری مشورہ نہ ہوئیں کہیں نہیں جا سکتا۔میں تو سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر کہے تو پھر تو حکم ہو گیا اور اس صورت میں مجبوری ہوتی ہے۔میں نے بعض ڈاکٹروں سے بات کی ہے انہوں نے ملک سے باہر جانے کا مشورہ نہیں دیا۔اُنہوں نے کہا ہے کہ اس وقت حالت اور ہے اور جب ہم نے یورپ جانے کا مشورہ دیا تھا اُس وقت حالت اور تھی۔اُس وقت ضروری تھا کہ ہم آپ سے یورپ جانے کے لئے کہتے لیکن اب ہم نہیں کہہ سکتے۔اگر ہمیں نظر آیا کہ آپ کو وہاں جانے سے فائدہ ہوگا تو ہم پھر کہیں گے کہ آپ یورپ چلے جائیں اس لئے اگر ڈاکٹر کہیں تو چوہدری عبداللہ خان صاحب کی اس تجویز پر عمل ہو سکتا ہے۔دوسرے میں جب پچھلی دفعہ یورپ گیا تھا تو گواب اتنے قافلہ کی ضرورت نہیں ہو گی لیکن اُسوقت میں اپنی بیویوں کو بھی ساتھ لے گیا تھا اور اُن بچوں کو بھی ساتھ لے گیا تھا جن کی مائیں پیچھے نہیں تھیں۔جماعت کے دوستوں نے جو چندہ جمع کیا تھا اُس کے علاوہ میرا ۳۸ ہزار روپیہ خرچ ہو گیا۔واپس آکر میں نے ۳۸ ہزار روپیہ میں سے ۳۲ ،۳۳ ہزار رو پیدا دا کر دیا ہے، پانچ چھ ہزار رو پیدا بھی ادا کرنا باقی ہے ، ابھی میں وہی ادا کر رہا ہوں اس لئے ابھی اس بات کا سوال پیدا نہیں ہوتا کہ میں کہیں باہر جاؤں کیونکہ ابھی پچھلے سفر کا قرضہ مجھ پر باقی ہے۔جو چیزیں ایسی تھیں جو کہ لفظاً اس ریزولیوشن کے نیچے آتی تھیں جو جماعت نے پاس کیا تھا مثلاً میرا کرایہ یا میری ڈاکٹری فیس ، وہ تو میں نے چندہ سے لے لیا باقی جو بیویوں اور بچوں کے اخراجات تھے وہ میں نے خود سارے کے سارے ادا کئے تا کہ جماعت پر بوجھ نہ ہو اور اُس وقت جو خرچ آیا اُس میں سے ابھی پانچ چھ ہزار روپیہ باقی ہے۔چند دن ہوئے میں نے حساب منگوایا تھا تو دفتر والوں نے لکھا تھا کہ ۳۸ ہزارر وپیہ کی رقم بنتی تھی۔اس میں سے اس وقت تک ۳۲ ہزار رو پید ادا ہو چکا ہے ممکن ہے بعد میں اور بھی کچھ ادا ہو گیا ہو۔مگر بہر حال حالات کو دیکھنا پڑتا ہے جب میں یورپ گیا تھا تو میں اپنے پیچھے اپنے ایک داماد کو کام سپرد کر گیا تھا، اُسے کام کا تجربہ نہیں تھا اس لئے میری غیر حاضری میں اُس نے مجھے بہت مقروض کر دیا۔پھر سارا سال خرچ میں تنگی کرنی پڑی۔