خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 705 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 705

خطابات شوری جلد سوم ۷۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء تو تم بار بار قرآن پڑھتے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک ان پڑھ آدمی کے پاس اُس کے کسی عزیز کا کارڈ آ جاتا ہے تو اُسے اس وقت تک تسلی نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اُسے پندرہ ہیں افراد سے پڑھوا نہ لے۔قرآن بھی خدا تعالیٰ کا خط ہے اگر تمہیں خدا تعالیٰ سے محبت ہوتی تو تم بیسیوں افراد سے جا کر پوچھتے کہ اس الہی خط میں کیا لکھا ہے۔اسی طرح اگر ان کے اندر بھی کچی تڑپ ہوتی تو وہ بار بار مجھ سے ملتے اور مشورہ لیتے۔بہر حال میں دوستوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ جو دوست اس رائے کے حق میں ہوں کہ جو بجٹ اس وقت پیش ہوا ہے اسے مشروط طور پر اس رنگ میں منظور کر لیا جائے کہ روپیہ کی حد تو اتنی ہی رہے لیکن ایڈ جسٹمنٹ مناسب مشورہ کے بعد میں خود کرلوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۳۹۹ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا۔۳۹۹ دوستوں کی یہ رائے ہے کہ مشروط طور پر اس بجٹ کو منظور کر لیا جائے۔اس دفعہ ۴۰۰ ممبروں کو نمائندگی ٹکٹ جاری ہوئے ہیں۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ۳۹۹ ایسی اکثریت ہے جس پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے میں کثرتِ رائے کے مطابق جو اتفاق رائے کے برابر ہے اس بجٹ کو مشروط طور پر منظور کرتا ہوں۔“ اس موقع پر محترم چوہدری عبداللہ خان صاحب امیر جماعت کراچی نے حضور کی خدمت میں تحریراً گزارش کی کہ صحت کی بحالی کے لئے حضور ایک بار پھر ولایت تشریف لے جائیں۔وو اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: - یہ بات تو ڈاکٹروں کی مرضی پر ہے۔میں جب ولایت سے واپس آیا تھا تو چونکہ وہاں موسم ایک قسم کا رہتا ہے اور یہاں بدلتا رہتا ہے اس لئے مجھے وہاں یقینا فائدہ ہوگا۔اس سال جلسہ سالانہ پر میری طبیعت اچھی رہی لیکن بعد میں جنوری سے فروری تک جو بارشیں شروع ہوئیں اور پھرڑ کی ہی نہیں روزانہ بارش ہوتی رہتی ہے، اس سے طبیعت خراب ہو گئی۔کل خدا تعالیٰ کے فضل سے باوجود کام کرنے کے طبیعت بحال رہی۔اسی طرح