خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 56
خطابات شوری جلد سوم ۵۶ مشاورت ۱۹۴۴ء پانچ ہزار مبلغ رکھیں تو وہ ایک وقت میں پانچ ہزار افراد کو ہی تبلیغ کر سکتے ہیں لیکن اگر ہم کافی تعداد میں اُن کو لٹریچر اور اشتہارات وغیرہ مہیا کر دیں تو ایک ایک آدمی کی آواز ملک کے لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔پس تبلیغ کو وسیع کرنے اور دنیا کے اکثر حصوں میں اسلام اور احمدیت کے نام پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس روپیہ ہو اور ضروری ہے کہ ہمارے پاس آدمی ہوں تا کہ ہم ایک وقت میں ان دونوں چیزوں سے کام لے کر کفر کے مقابلہ کے لئے نکل سکیں۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں سے کئی مخلصین ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں لیکن اُن کی تیاری اور پھر اُن کا بیرونی ممالک میں تبلیغ کے لئے بھجوایا جانا ابھی دُور کی بات ہے۔میں تو جب ان حالات کو دیکھتا ہوں تو مجھے بعض دفعہ یہ مشل یاد آجاتی ہے۔کہ تریاق از عراق آورده شود مارگزیده مرده شود “ جنگ نه معلوم کب ختم ہو۔پھر اگر جنگ ختم ہو جائے اور ہماری تیاری ابھی نامکمل ہو تو پیشتر اس کے کہ ہم کوئی نئی عمارت کھڑی کریں کفر اس کی جگہ ایک اور عمارت کھڑی کر دے گا۔اول تو پرانی عمارت کو توڑنا ہی آسان کام نہیں ، تین چار سو سال سے عیسائیوں نے مسلمانوں کو سیاسی اور صنعتی اور اقتصادی میدانوں میں شکست دے کر اُن کو اتنا کمزور کر دیا ہے اور عیسائیت دنیا پر اس قدر غالب آچکی ہے نہ صرف مذہب کے لحاظ سے بلکہ تمدن اور سیاست اور اقتصاد کے لحاظ سے بھی کہ کفر کی مضبوط اور پرانی عمارت کو توڑنا ہمارے لئے کوئی آسان بات نہیں۔پھر ہمارا کام صرف یہی نہیں کہ ہم کفر کی عمارت کو توڑ دیں بلکہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اُس کی جگہ اسلام کی بلند و بالا عمارت کو اپنی پوری شان اور عظمت کے ساتھ کھڑا کریں۔اگر جنگ کے بعد جبکہ پرانی عمارت الہی ہاتھوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہو گی ہم نے جلد سے جلد اسلام کی عمارت کھڑی نہ کی تو دشمن اس وقفہ سے فائدہ اٹھا کر پھر کفر کی ایک عمارت کھڑی کر دے گا اور پھر ہمارا زور اُس عمارت کو توڑنے پر صرف ہونے لگ جائے گا اور اسلام کی عمارت کو از سر نو تعمیر کرنے کا کام اور زیادہ التواء میں پڑ جائے گا۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس عزم مصم کو لے کر کھڑے ہو جائیں کہ ہم کفر کی قائم کردہ عمارت کو منہدم کر کے رکھ دیں گے، ہم اسلام کی مضبوط ترین عمارت دوبارہ دنیا میں