خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 55
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء ہوا کرتی ہے اور مستقل ارادہ اور عزم کے لئے ایسے آدمیوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے جو اپنے دلوں میں اخلاص اور ایمان رکھتے ہوں۔اگر ایسے آدمی میسر آجائیں تو پھر روپیہ کی بھی ضرورت نہیں رہتی اخلاص خود بخود کام کے رستے تلاش کر لیا کرتا ہے۔یہی وہ بات ہے جو تحریک جدید کے شروع میں میں نے کہی کہ اس تحریک کی بنیاد آدمیوں پر ہے روپیہ پر نہیں۔رو پید اگر لیا جاتا ہے تو اس لئے کہ درمیانی وقفہ میں اُس روپیہ سے کام لیا جا سکے ورنہ درحقیقت ہمیں ضرورت اُن اخلاص و ایمان رکھنے والے مبلغین کی ہے جو دنیا میں نکل جائیں اور خدائے قدوس کا نام بلند کرنے کے لئے اپنی عمریں صرف کر دیں۔یہ وہ مبلغ ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے اور یہی وہ مبلغ ہیں جو صحیح رنگ میں اسلام کے سپاہی کہلا سکتے ہیں۔آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے صحابہ کرام پر جو حالات آئے اُن کو دیکھو اور غور کرو۔وہ زمانہ ایسا تھا جس میں نہ ریل تھی ، نہ تا رتھی ، نہ آمد و رفت کی آسانیاں تھیں مگر اُس زمانہ میں تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی صحابہ باہر نکل گئے اس ارادہ اور نیت کے ساتھ کہ ہم اسلام کو اب دنیا میں پھیلائیں گے۔چنانچہ حضرت عثمان کی خلافت کے آخری سالوں میں ہی جب فتنہ و فساد کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوئے ، بعض صحابہ چین کی طرف چلے گئے ، بعض ہندوستان کی طرف آگئے ، بعض دوسرے ممالک کی طرف چلے گئے اس طرح ہزاروں میل انہوں نے پیدل سفر طے کیا اور ایسے دشوار گزار علاقوں میں سے گزرے جہاں سوار یوں والے بھی جانے سے گھبراتے ہیں۔در حقیقت تبلیغ کا سوال ایک مستقل عزم اور ارادہ کے بغیر حل ہی نہیں ہو سکتا۔ایسا مستقل عزم جو ہر قسم کی روکوں کوخس و خاشاک کی طرح بہا دے اور ہر قربانی خواہ وہ کتنی بڑی ہو انسان کو آسان اور سہل نظر آنے لگے۔لیکن جب تک یہ وقت نہیں آتا ہماری جماعت کے افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر اپنی جان کو قربان کرنے کے لئے تیار رہیں، اپنے مال کو قربان کرنے کے لئے تیار رہیں تا کہ جن کا موں کی بنیا د رکھ دی گئی ہے اُن کو ہم زیادہ سے زیادہ وسیع کر سکیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تبلیغ کے لئے ہمیں موجودہ تعداد سے بہت زیادہ مبلغین کی ضرورت ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ روپیہ کا موجود ہونا بھی اپنی ذات میں نہایت ضروری ہے کیونکہ روپیہ سے تبلیغ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔اگر ہم صرف