خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 691 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 691

خطابات شوری جلد سوم ۶۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء اس کے لئے بنیادی طور پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحریک جدید کے دور ثانی میں نو جوانوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی تحریک کی جائے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دور ثانی کی آمد ہر سال اُس نسبت سے نہیں بڑھی جس نسبت سے دور اول کی آمد بڑھتی رہی ہے۔دور اؤل والوں نے اتنی جلدی ترقی کی تھی کہ بعض ایسے سال بھی آئے کہ اُن کا چندہ دس لاکھ تک پہنچ گیا مگر دور ثانی کے نو جوانوں کا چندہ دو لاکھ پر پہنچ کر گرا اور پھر اس کے بعد چڑھنا شروع ہوا۔اب وہ اپنی کمی پوری کر رہے ہیں لیکن ابھی وہ ایسی نہیں جو قابلِ ذکر ہو۔حالانکہ نو جوانوں میں کام کرنے کی روح بوڑھوں سے زیادہ ہونی چاہئے۔بوڑھے فوت ہو رہے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ پنشنوں پر ریٹائر ہو جائیں گے۔اس طرح ان کے چندوں میں بھی کمی آجائے گی اور یہ کی دور ثانی نے پوری کرنی ہے یا ہمارے محکمہ زراعت نے پوری کرنی ہے۔کئی سکیمیں انہوں نے بنائی ہیں جو معقول ہیں اور کئی سکیمیں میں نے بھی ان کو بتائی ہیں اور کئی تجاویز محکمہ زراعت نے پیش کی ہیں اگر وہ اُن پر عمل کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ تحریک جدید کا نام غیر ملکوں میں اور بھی بڑھ جائے گا اور وہاں جماعت پھیل جائے گی۔مثلاً انڈونیشیا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک لاکھ سے زیادہ جماعت ہو گئی ہے۔اسی طرح ویسٹ افریقہ میں کوئی ایک لاکھ کے قریب جماعت ہے۔بیرونی مشنوں کی ترقی خوشکن ہے آج سے میں سال پہلے مولوی نذیر احمدعلی صاحب۔مرحوم نے لکھا تھا کہ ہماری جماعت یہاں تیس ہزار ہے۔اُس وقت انہوں نے لکھا تھا کہ سالانہ جلسہ پر ہمارے تین ہزار نمائندے آئے۔وہ ملک بڑا وسیع ہے اگر مغربی اور مشرقی پاکستان دونوں کو ملا لیا جائے تو وہ اس سے بھی دوگنا ہے۔اتنی دور سے لوگوں کا آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔پھر وہاں اتنے سامانِ سفر بھی نہیں جتنے ہمارے ملک میں ہیں مگر پھر بھی تین ہزار نمائندہ آ گیا۔تین ہزار نمائندوں کے متعلق میں نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ دس آدمیوں میں سے ایک آدمی آیا ہے۔اس لئے ہماری تعداد وہاں تیں ہزار ہے۔مگر اس سال جو رپورٹ ملک کے دوحصوں کی آئی ہے اُس میں مبلغ انچارج نے لکھا ہے کہ اس سال جلسہ سالانہ پر پانچ ہزار آدمی آیا ہے اور ایک ملک نے لکھا ہے کہ بارہ سو آیا ہے۔اگر اس کو دس سے ضرب دیں تو یہ ۶۲،۰۰۰ کے قریب بن جاتا ہے