خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 690 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 690

خطابات شوری جلد سوم ۶۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء فرض کر و لا ہور یا کراچی کی ضرورت کسی وقت اتنی بڑھ جائے کہ اگر مثلاً ۳۳ فیصدی کے لحاظ سے اُن کا حق صرف تمیں ہزار روپیہ لینے کا ہے مگر ضرورت ان کو ۶۰ ہزار کی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اُن کو ۶۰ ہزار نہ دیں۔اسی طرح اگر سلسلہ کی مرکزی ضرورتوں اور دوسرے علاقوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم کسی جماعت کو ۳۰ ہزار میں سے صرف پندرہ ہزار ہی دے سکتے ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس پر راضی نہ ہو۔پس فیصدی والا سسٹم نقصان دہ ہے اور اس سے جیلسی (JEALOUSY) بڑھنے کا خطرہ ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ مشرقی بنگال میں یہ مرض بڑھ گیا ہے۔اس نے پہلے اپنے چندہ کا ۷۰ فیصد ی مانگا اور اس کے بعد مجھے لکھا کہ ہمارے چندہ کا ۷۰ فیصدی ہمارے لئے کافی نہیں، ۲۵ ہزار اور دے دو۔اس کے بعد ایک اور امیر عارضی طور پر مقرر ہوئے تو اُنہوں نے مجھے لکھا کہ ۲۵ ہزار سے بھی ہمارا گزارہ نہیں ہوتا اُنہیں اور رقم دی جائے۔گویا مشرقی پاکستان اپنی آمد ہی نہیں مغربی پاکستان کی آمد بھی لینا چاہتا ہے اور جب مغربی پاکستان کی آمد بھی مشرقی پاکستان لے جائے گا تو کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے لئے ۱/۳ کا کیا سوال باقی رہ جائے گا۔اصل طریق جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہی ہے کہ ہر جماعت کی ضروریات کو دیکھ کر اس کو معتین گرانٹ دی جائے اور ہر سال اس پر غور ہوتار ہے۔اس طرح نئے نئے خیالات بھی سوجھتے رہیں گے اور جماعت کی ضرورتیں بھی سامنے آتی رہیں گی۔“ حضور کے اس ارشاد پر مکرم شیخ بشیر احمد صاحب نے اپنی ترمیم واپس لے لی۔تحریک جدید کے دور ثانی کے لئے سب کمیٹی مال تحریک جدید کی طرف سے بجٹ سال ۵۸ - ۱۹۵۷ء برائے منظوری مجلس مشاورت نوجوانوں کو زیادہ حصہ لینے کی تحریک میں پیش ہونے پر حضور نے فرمایا : - کسی صاحب نے اگر اس کے متعلق کوئی ترمیم پیش کرنی ہو تو وہ پیش کر دیں۔مگر بظاہر اس بارہ میں کوئی ترمیم پیش کرنا درست نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بجٹ بیرونی جماعتوں کا ہے اور پھر جو آمد انہوں نے بتائی ہے وہ بھی ایک حد تک خیالی ہے کیونکہ تحریک جدید کا چندہ وصیت کے چندے کی طرح با قاعدہ وصول نہیں ہوتا اور اس وجہ سے آمد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔