خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 673
خطابات شوری جلد سوم ۶۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء معاف کر دیا تھا تو ہم نہیں مانیں گے کیونکہ وصیت کی ادائیگی تمہارے ذمہ تھی۔اگر تم نے مہر معاف کروالیا تھا تو تمہارا یہ حق نہیں تھا کہ ہمارا حصہ بھی معاف کرواؤ اور نہ اس کا حق تھا کہ ہمارا حصہ تمہیں معاف کرتی، اس لئے پچاس روپے لازماً ہمیں ملنے چائیں اور اگر تم کہو کہ میں نے اُسے مہر دے دیا تھا تو اس صورت میں بھی تمہارا کوئی حق نہیں تھا کہ اُسے ہمارے حصہ کے روپے دے دیتے۔اگر پانچ سو روپے مہر تھا تو ساڑھے چار سو روپیہ اُسے دیتے اور پچاس روپے ہمیں دیتے کیونکہ وہ ہما راحق تھا۔پس میرے نزدیک ہر عورت کی وصیت پر حصہ وصیت ادا کرنے کا ذمہ دار اُس کے خاوند کو قراردیا جائے۔اگر عورت اپنا مہر معاف کر دے تو اس کا یہ حق نہیں ہو گا کہ وہ ہمارا حصہ معاف کرے۔اسی طرح اگر خاوند اپنی بیوی سے مہر معاف کرواتا ہے تو اس کا یہ حق نہیں ہو گا کہ ہمارا حصہ معاف کرائے اور اگر وہ مہر ادا کرے تو ہمارا حصہ اُسے ادا نہ کرے بلکہ وصیت کا حصہ ہمیں دے باقی مہر اپنی بیوی کو ادا کرے۔اگر مہر کو وصیت کے لئے معیار کر دیا جائے تو جہاں عورتوں کی یہ خواہش ہو گی کہ ان کا مہر بڑھے وہاں ہماری آمد میں بھی اضافہ ہوگا اور مہر کی زیادتی برکت کا موجب ہوگی۔میں آپ لوگوں کو یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ آپ بے شک اپنے دوست کو احمدی نہ بنا سکے ہوں مگر وہ عورت جو وصیت کرے گی وہ اُس وقت تک اپنے خاوند کو چھوڑے گی نہیں جب تک اُسے احمدی نہیں کر لے گی۔میں نے بیسیوں نہیں سینکڑوں ایسی عورتیں دیکھی ہیں کہ اُن کے خاوند کٹر غیر احمدی تھے اور اُنہوں نے اُن کو اُس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ اُنہوں نے بیعت نہیں کر لی۔حال ہی میں کراچی میں ایک افسر نے بیعت کی ہے۔بعد میں مجھے پتہ لگا کہ افسر سے اس کی بیوی نے بیعت کرائی ہے۔بلکہ دو ایک شیعہ بھی تھے اُن کے متعلق بھی معلوم ہوا کہ پہلے بیوی احمدیت کی طرف مائل ہوئی اور پھر اُس نے اپنے خاوند کو قرآن کریم پڑھایا اور بیعت کی تحریک کی۔“ 66 ورثہ میں لڑکیوں کا حصہ ایک سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا: - اصلاح وارشاد کے محکمہ کا فرض ہے کہ وہ جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی تحریک کرتا رہے کہ وہ اپنی جائیداد سے شریعت کے مطابق اپنی