خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 665
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء کہ وہاں زراعت کے صوبائی وزیر سردار جو گندر سنگھ خود قادیان چل کر آئے تھے صرف مجھے یہ بتانے کے لئے کہ اس ضلع میں فلاں بیج کامیاب ثابت ہوا ہے۔پس ہمارے انسپکٹر زراعت کو چاہئے تھا کہ وہ سیالکوٹ جاتے اور وہاں زراعت کے افسروں سے ملتے۔پھر سیالکوٹ میں جتنی فصلیں ہوتی ہیں اُن کا اندازہ لگاتے۔پھر وہ زمینداروں کے پاس آتے اور انہیں بتاتے کہ تم فلاں بیج لولیکن بجائے اِس کے کہ اس طرح مفید طور پر کام کیا جاتا الفضل میں مضامین شائع کرنے پر اکتفا کر لیا گیا۔حالانکہ میں نے خود ” نوائے وقت“ میں پڑھا تھا کہ گورنمنٹ نے بھلوال میں اس قسم کے سیکشن مقرر کئے ہیں اور وہاں پانچ سات قسم کے تجربات کئے جارہے ہیں۔چاہئے تھا کہ ہمارے انسپکٹر وہاں جاتے اور اُن تجربات سے فائدہ اُٹھاتے۔یہ ضروری نہیں کہ بھلوال کا تجربہ سیالکوٹ یا ڈیرہ غازی خاں میں بھی کامیاب ہو لیکن سائنس بنتی ہی اس طرح ہے کہ ایک چیز کا تجربہ کیا جاتا ہے۔اگر وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اُس کو بڑھا دیا جاتا ہے۔مثلاً کئی تجربوں کے بعد کپاس کی کاشت کے متعلق یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ پنجاب میں دیر سے ہونی چاہئے۔ایک پارسی پروفیسر تھا جو لائل پور زراعتی کالج میں مقرر تھا۔اصل میں وہ پونا کالج کا تھا۔گورنمنٹ نے اُسے یہاں بلوایا تھا اور اُسے سندھ کی زمینوں کا معائنہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔اُس کا ماتحت ایک سکھ تھا۔ایک دفعہ میں نے اپنا ایک نوکر اُس کے ہاں بطور مینجر بھیجا تھا اس لئے میرے اُس سے تعلقات پیدا ہو گئے تھے۔وہ مجھے ملنے کے لئے آیا اور کہنے لگا میں ایک افسر کا سیکرٹری یا پرسنل اسسٹنٹ بن کر یہاں آیا ہوں۔وہ ایم۔ایس۔سی تھا۔اُس نے بتایا کہ ہمارے افسر نے فیصلہ کیا ہے کہ یہاں کپاس بجائے موسم کے آخر میں بونے کے پہلے ہوئی جائے۔میں نے کہا یہ تمہارے افسر کی بیوقوفی ہے اس لئے کہ تمہارے افسر نے صوبہ بمبئی کے موسم کو دیکھا ہوا ہے اور اُس نے لائل پور کی رپورٹیں دیکھی ہیں۔سندھ کا تعلق نہ لائل پور سے ہے اور نہ بمبئی سے ہے۔اس کی آب و ہوا بالکل الگ ہے۔یہاں سوئنگ سیزن (sowing season) بہت چھوٹا ہوتا ہے۔اس کے چھوٹا ہونے کی وجہ یہاں اتنی فصلیں نہیں ہوئی جاسکتیں جتنی پنجاب میں بوئی جاسکتی ہیں۔پھر یہاں زمین کی تہیں پنجاب کی زمین کی تہوں سے مختلف ہیں۔یہاں نیچے بڑی سخت زمین آ جاتی ہے۔