خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 660
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء اتنی دے کہ دمشق اور مصر روس سے مدد نہ مانگیں بلکہ روس دمشق اور مصر کو تاریں دے کہ ہمیں سامانِ جنگ بھیجو۔اسی طرح امریکہ ان سے یہ نہ کہے کہ ہم تمہیں مدد دیں گے بلکہ امریکہ، شام، مصر، عراق، ایران، پاکستان اور دوسری اسلامی سلطنتوں سے کہے کہ ہمیں اتنے ڈالر بھیجو ہمیں ضرورت ہے۔ورنہ ہم تو خالص دین کے بندے ہیں اور دُنیا سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی جو چیز ہے وہی ہمیں پیاری ہے۔خلافت کی غرض پس اللہ تعالیٰ اسلام کے غلبہ کی کوئی صورت پیدا کرے اور خلافت کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ مسلمان نیک رہیں اور اسلام کی اشاعت میں لگے رہیں یہاں تک کہ اسلام کی اشاعت دُنیا کے چپہ چپہ پر ہو جائے اور کوئی غیر مسلم باقی نہ رہے۔اگر یہ ہو جائے تو ہماری غرض پوری ہوگئی اور اگر یہ نہ ہو تو محض نام کی خلافت نہ ہمارے کسی کام کی ہے اور نہ اس خلافت کے ماننے والے ہمارے کسی کام کے ہیں۔ہمارا دوست وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نام کو دُنیا کے کناروں تک پھیلائے۔وہ خلیفہ ہمارے سر آنکھوں پر جو خدا تعالیٰ کے نام کو دُنیا کے کناروں تک پھیلاتا ہے۔وہ مبائع ہمارے سر آنکھوں پر جو خدائے واحد کے نام کو دُنیا میں پھیلاتے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی صداقت کو دُنیا پر ظاہر کرتے ہیں۔ہمارے دل اُن کے لئے دُعائیں کرتے ہیں چاہے وہ ہزار سال بعد آئیں اور ہمارے دماغ بھی اُن کے لئے دُعا کرتے ہیں چاہے وہ سینکڑوں نہیں ہزاروں سال ہم سے بعد آئیں۔اللہ تعالیٰ اُن کا حافظ و ناصر ہو اور اُن کی مدد کرے اور ہمیشہ اُن کو راہ راست پر قائم رکھے اور اسلام کی ترقی کے سامان پیدا کرتا رہے۔66 نظارت غلیا کی تجویز نمبرا کے متعلق فیصلہ اس کے بعد حضور نے شوری کے سامنے ایجنڈا کی تجویز نمبرا پیش کی جس کے الفاظ یہ ہیں : - و جس شخص پر کسی وقت سلسلہ عالیہ احمدیہ کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے کا الزام ثابت ہو تو ایسے شخص کو خدمت سلسلہ کے کام سے برطرف کر دیا