خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 659 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 659

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء اور اسے منظور کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ اس کو مبارک کرے۔میں جانتا ہوں کہ اس ریزولیوشن کے بعض حصے ایسے ہیں جن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہو گی جیسا کہ مولوی ابوالعطاء صاحب نے کہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو رسالہ الوصیة میں اُٹھایا ہے کہ جو بھی اس دُنیا میں پیدا ہوا ہے اُس نے ضرور مرنا ہے چاہے وہ آج مرے یا کل مرے اِس لئے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کوئی خلیفہ قیامت تک زندہ رہے یا اُس کا کوئی ماننے والا قیامت تک زندگی پائے۔پس ہم نے جو کچھ کرنا ہے اس دُنیا کی زندگی کے متعلق کرنا ہے۔اگلی دُنیا کا خدا خود ذمہ دار ہے۔اس جہان میں خدا تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی کا اختیار دیا ہے۔اگلے جہان کا کام وہ خود کرے گا۔پس چونکہ صرف اِس دُنیا کا کام چلانا انسان کے اختیار میں ہے اس لئے ہماری کوشش اس حد تک ہونی چاہئے کہ ہم اس دُنیا کے نظام کو اچھا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔اگلے جہان کا نظام خدا تعالیٰ نے خود اپنے اختیار میں رکھا ہے اور وہ اُسے آپ ہی ٹھیک کر دے گا۔ہماری اللہ تعالیٰ سے یہی دُعا ہے کہ وہ نظام خلافت حقہ کو احمدیت میں ہمیشہ کے لئے قائم رکھے اور اس نظام کے ذریعہ سے جماعت ہمیشہ ہمیش منتظم صورت میں اپنے مال و جان کی قربانی اسلام اور احمدیت کے لئے کرتی رہے اور اس طرح خدا تعالیٰ ان کی مدد اور نصرت کرتا رہے کہ آہستہ آہستہ دُنیا کے چپہ چپہ پر مسجدیں بن جائیں اور دُنیا کے چپہ چپہ پر مبلغ ہو جائیں اور وہ دن آجائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ دنیا کے دیگر مذاہب اسلام اور احمدیت کے مقابلہ میں ایسے رہ جائیں جیسے ادنی اقوام کے لوگ ہیں۔دُنیا میں ہر کہیں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کے پڑھنے والے نظر آئیں اور روس، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے لوگ جو آج اسلام پر ہنسی اُڑا رہے ہیں وہ سب کے سب احمدی ہو جائیں۔وہ اسلام کو قبول کر لیں اور انہیں اپنی ترقی کے لئے اسلام اور مسلمانوں کا دست نگر ہونا پڑے۔ہم ان ممالک کے دشمن نہیں ہماری دُعا ہے کہ یہ ملک ترقی کریں لیکن ترقی کریں اسلام اور مسلمانوں کی مدد سے۔آج تو دمشق اور مصر روس کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہا ہے کہ کس طرح اس سے کچھ مددمل جائے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دمشق اور مصر کے مسلمانوں کو پکا مسلمان بھی بنائے اور پھر دُنیوی طاقت بھی