خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 658

خطابات شوری جلد سوم ۶۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء جنہوں نے ۱۹۵۶ء سے پہلے بیعت کی ہوئی ہے۔بہر حال یہ درستیاں حالات کے بدلنے کے ساتھ ہوتی رہیں گی اور ریزولیوشن بار بار مجلس شوری کے سامنے آتا رہے گا۔سر دست یہ ریزولیوشن شرارت کے فوری سد باب کے لئے ہے۔ورنہ آئندہ زمانہ کے لحاظ سے دوباره ریز ولیوشن ہوتے رہیں گے اور پھر دوبارہ غور کرنے کا لوگوں کو موقع ملتا رہے گا۔اس کے بعد میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی رائے دیں۔جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور اسلام سے محبت رکھتے ہوئے یہ رائے رکھتے ہوں کہ اس ریزولیوشن کو پاس کیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔جماعتوں کی طرف سے جو پابندی عائد کی گئی تھی اور نمائندگان سے وعدے کئے گئے تھے اُن کو میں نے ختم کر دیا ہے۔اب صرف اُس وعدہ کو پورا کرو جو تمہارا خدا تعالیٰ کے ساتھ تھا۔“ حضور کے اس ارشاد پر تمام نمائندگان کھڑے ہو گئے۔رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا: - ۳۴۱ * دوستوں کی رائے ہے کہ اس ریزولیوشن کو منظور کر لیا جائے مگر میں چاہتا ہوں کہ اگر کوئی نمائندہ اس تجویز کے مخالف ہو اور اس کی رائے یہ ہو کہ اس ریزولیوشن کو منظور نہ کیا جائے تو وہ بھی کھڑا ہو جائے لیکن یہ یاد رہے کہ جن دوستوں نے اس ریزولیوشن کے موافق رائے دی ہے اُن کو دوبارہ کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں۔ہاں اگر کوئی نمائندہ ایسا ہو جو اس کے مخالف رائے رکھتا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے۔“ اس پر کوئی دوست کھڑے نہ ہوئے۔فرمایا : - گفتی میں سہولت کے لئے اس وقت آٹھ حلقے بنائے گئے ہیں۔ان آٹھ حلقوں فیصلہ میں کوئی نمائندہ بھی اس ریزولیوشن کے خلاف کھڑا نہیں ہوا اور اس کے بالمقابل ۳۴۱ ووٹ اس ریزولیوشن کی تائید میں ہیں۔اس طرح دوستوں نے واضح کر دیا ہے کہ اُنہوں نے اس وقت اپنی مرضی سے ریزولیوشن کے حق میں رائے دی ہے۔جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔سو میں اِس ریزولیوشن کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں سیکرٹری مجلس مشاورت کی طرف سے ۳۴۴ ٹکٹ تقسیم کئے گئے تھے مگر رائے شماری کے موقع پر تین نمائندے حال میں موجود نہیں تھے۔