خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 657 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 657

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء لیکن اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس ریزولیوشن سے شرارت کا سدِ باب نہیں ہوتا بلکہ اس سے شرارت کا دروازہ کھلتا ہے تو وہ ووٹ نہ دے۔آگے اُس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔خدا تعالیٰ جس طرح چاہے گا اُس کے ساتھ برتاؤ کرے گا۔وہ اپنی جماعت سے نہ ڈرے۔کراچی کا نمائندہ کراچی کی جماعت سے نہ ڈرے، لاہور کا نمائندہ لاہور کی جماعت سے نہ ڈرے، سرگودھا کا نمائندہ سرگودھا کی جماعت سے نہ ڈرے۔وہ ووٹ دے تو خدا تعالیٰ سے ڈر کر دے اور پھر اس کے بعد ہمارا اور اُس کا جو معاملہ ہے وہ خدا تعالیٰ خود طے کرے گا۔ہمیں اُس کے ووٹ کی ضرورت نہیں۔ہمیں صرف اُس شخص کے ووٹ کی ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والا ہے، اسلام سے محبت رکھنے والا ہے اور خلافت سے محبت رکھنے والا ہے۔پس اگر وہ خدا تعالیٰ اسلام اور خلافت کی خاطر ووٹ دیتا ہے تو دے اور اگر وہ اپنی جماعت کی خاطر ووٹ دیتا ہے تو ہمیں اُس کے ووٹ کی ضرورت نہیں۔یہ تحریک کرنے کے بعد میں جماعت کے دوستوں کی رائے اِس بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں مگر میں یہ کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس ریزولیوشن کے بعض حصے ایسے ہیں جن پر آئندہ زمانوں میں دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہوگی لیکن بہر حال جب تک کوئی دوسرا ریزولیوشن پاس نہ ہو گا اُس وقت تک یہ ریزولیوشن قائم رہے گا جیسا کہ خود اس ریزولیوشن میں بھی یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ آئندہ خلافت کے انتخاب کے لئے یہی قانون جاری رہے گا سوائے اس کے کہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوریٰ میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے اور شوری کے مشورہ کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔پس یہ ریزولیوشن دوبارہ بھی مزید غور کیلئے پیش ہو سکتا ہے اور آئندہ پیدا ہونے والی مشکلات کو دور کیا جاسکتا ہے۔مجھے خود اس میں بعض ایسی باتیں نظر آتی ہیں جن میں بعد میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوگی مثلاً کچھ عرصہ کے بعد صحابی نہیں رہیں گے۔پھر ہمیں یہ کرنا پڑے گا کہ انتخاب کی مجلس میں تابعی لئے جائیں یا وہ لوگ لئے جائیں جنہوں نے ۱۹۱۴ء سے پہلے بیعت کی ہے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ قانون بنانا پڑے گا کہ وہ لوگ لئے جائیں جنہوں نے ۱۹۴۰ء سے پہلے بیعت کی ہے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ قانون بنانا پڑے گا کہ وہ لوگ لئے جائیں