خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 656
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء کی بناء پر اور یہ بتانے کے لئے کہ ہمیں خلافت کے ساتھ وابستگی ہے اور ہم خلافت احمد یہ کو کسی صورت میں بھی تباہ نہیں ہونے دیں گے اس ریزولیوشن کی تائید کرنی تھی لیکن ہوا یہ کہ جماعتوں نے ہم سے اس بات کے متعلق بھی حلف لیا ہے کہ ہم ضرور اس ریزولیوشن کی تائید کریں۔اس طرح جو بات ہم نے اپنے ایمان کے ثابت کرنے کے لئے کرنی تھی وہ حلف کے ذریعہ سے کروائی جائے گی اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس شخص میں ایمان تو کوئی نہیں صرف جماعت سے وعدہ کی بناء پر یہ ایسا کر رہا ہے۔اس طرح گویا ہمارے ثواب کا راستہ بند ہوتا ہے اور ہم اپنے اخلاص کا اظہار نہیں کر سکتے۔ان کی یہ بات چونکہ معقول ہے اس لئے جو دوست باہر سے جماعت کے نمائندہ بن کے آئے ہیں اور اُن سے جماعتوں نے اس بات کے لئے حلف لیا ہے کہ وہ ضرور اس ریزولیوشن کی تائید کریں، میں انہیں اس حلف سے آزاد کرتا ہوں۔خلافت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے قائم کرنا ہے۔اگر کوئی شخص اپنے ایمان میں کمزور ہے اور وہ کوئی ایسا راستہ کھولتا ہے جس کی وجہ سے خلافت احمد یہ خطرہ میں پڑ جاتی ہے یا دشمنوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے تو اس کے ووٹ کی نہ خلافت احمدیہ کو ضرورت ہے اور نہ خدا کو ضرورت ہے۔یہاں جماعتیں کچھ نہیں کرسکتیں، اگلے جہاں میں خدا تعالیٰ خود اس کو سیدھا کر سکتا ہے۔اس لئے مجھے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسے نمائندگان کو تائید کا پابند کرنے کی مجھے ضرورت نہیں۔وہ ووٹ دیں تو اپنے ایمان کی بناء پر دیں۔یہ سمجھ کر نہ دیں کہ وہ کسی جماعت کے حلف کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں بلکہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ریزولیوشن جماعت احمدیہ کی خلافت کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے ذریعہ سے آئندہ فتنوں کا سد باب ہوتا ہے تو وہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے ووٹ دیں نہ کہ اپنی جماعت کو خوش کرنے کے لئے۔اور اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ اس ریزولیوشن سے شرارت بڑھتی ہے اور فتنہ کا دروازہ گھلتا ہے تو وہ ووٹ نہ دے۔ہمیں اُس کے ووٹ کی ضرورت نہیں اور نہ خدا تعالیٰ کو اُس کے ووٹ کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ نے جب مجھے خلیفہ بنایا تھا اُس وقت اس قسم کا کوئی قانون نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے فتنہ پردازوں کی کوششوں کو نا کام کر دیا۔پس ہم خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں۔جو شخص ووٹ دے وہ اس بات کو سمجھ کر دے کہ اس ریزولیوشن کی وجہ سے جماعت میں شرارت کا سد باب ہوتا ہے