خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 655 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 655

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء نائی میری حجامت بنانے آیا ہوا تھا۔پہلے جب بھی وہ آیا کرتا تھا مجھے بتایا کرتا تھا کہ آج میاں عبدالمنان نے مجھے حجامت بنوانے کے لئے بلوایا اور وہاں مجھ سے یہ یہ باتیں کیں لیکن اُس دن اُس نے کوئی بات نہ کی۔میں نے اُس سے دریافت کیا کہ آج تو نے میاں عبدالمنان کی کوئی بات نہیں بتائی۔اس پر اُس نے کہا کہ میاں عبد المنان تو بڑی مدت سے میری دُکان پر نہیں آئے اور نہ ہی اُنہوں نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے۔آج اتفاقاً گول بازار میں (جہاں سے یہ خط ملا ہے ) وہ خود اور اُن کے بیٹے پھر رہے تھے۔وہاں میں نے دیکھا کہ ایک دکاندار جو اُن کا کرایہ دار تھا آگے آیا اور کہنے لگا میاں صاحب! میں بڑی دیر سے آپ کو تلاش کر رہا ہوں۔دفتروں میں میں کہاں کہاں جاتا۔میں نے آپ کو کرایہ دینا تھا آپ ملتے ہی نہیں۔میں نے اُس دکاندار کو کہا کہ تم کیوں تکلیف کرتے ہو۔میاں صاحب کو ضرورت ہوگی تو وہ آ کر کرایہ مانگ لیں گے۔تو یہ واقعہ اور اس خط کا وہاں سے ملنا بتا تا ہے کہ ممکن ہے جیب سے رومال نکالتے ہوئے یہ خط میاں عبدالمنان سے نیچے گر گیا ہو۔پھر میں نے گھر میں بات کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ شاید آپ کو معلوم نہیں حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے ساتھ جو تعلق رکھنے والے لوگ ہیں وہ سارے کے سارے میاں عبدالمنان کو ماموں جان ہی کہتے ہیں اس لئے اُنہوں نے کہا۔”ماموں جان“ کے الفاظ کی وجہ سے آپ ان کے کسی بھانجے یا بھانجی کو تلاش نہ کریں کیونکہ بیسیوں ایسے آدمی ہیں جن کے ساتھ اُن کے تعلقات ہیں اور وہ سب اُن کو عادتا ماموں“ کہتے ہیں۔بہر حال میاں عبداللہ صاحب حجام کی گواہی سے پتہ لگ گیا کہ یہ خط فی الواقع عبد المنان کا ہے کیونکہ اُس نے اُسی جگہ جہاں سے یہ خط ملا ہے اور اُسی دن جس دن خط ملا ربوہ میں اُنہیں دیکھا تھا۔اس کے بعد ریزولیوشن کے متعلق ووٹ انتخاب خلافت کے ریزولیوشن پر تبصرہ لینے سے پہلے میں یہ بات کہنی چاہتا ہوں کہ اس ریزولیوشن کے متعلق غلط فہمی ہوئی ہے۔بعض جماعتوں نے اپنے نمائندوں سے قسمیں لی ہیں کہ وہ شوریٰ میں اس ریزولیوشن کی تائید کریں اور اس کے خلاف ووٹ نہ دیں۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور وہ اعتراض یہ ہے کہ ہم نے تو اپنے ایمان