خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 654 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 654

خطابات شوری جلد سوم ۶۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے خاندان کے افراد اور جماعت کے ایسے مخلصین میں سے ہو سکے گا جو مبائعین ہوں اور جن کا کوئی تعلق غیر مبائعین یا احرار وغیرہ دشمنان سلسلہ احمدیہ سے نہ ہو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس وقت تک ایسے مخلصین کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے) ضروری نوٹ :- سیدنا حضرت۔۔۔۔۔۔بنیادی قانون خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آئندہ کے لئے انتخاب خلافت کے لئے مذکورہ بالا اراکین اور قواعد کی منظوری کے ساتھ بطور بنیادی قانون کے فیصلہ فرمایا ہے کہ : - آئندہ خلافت کے انتخاب کے لئے یہی قانون جاری رہے گا سوائے اس کے کہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوریٰ میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے اور شوری کے مشورہ کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔“ دو مجلس علماء کی یہ تجویز درست ہے“ دستخط مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی ۲۰-۳-۱۹۵۷ء مجلس علما ءسلسلہ احمدیہ ۱۹۵۷-۳-۱۸ اس کے بعد حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور افتتاحی تقریر نمائندگان مجلس شوری کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : - شاید مولوی صاحب کو یہ بات یاد نہیں رہی یا پھر اُنہیں بتائی نہیں گئی کہ یہ خط جو اُنہوں نے پڑھا ہے اور اُس میں عبدالمنان سے کہا گیا ہے کہ تم بعض ایسے مضامین لکھو جو اسلام کی تائید میں ہوں تا اس سے جماعت احمدیہ کو جو تم سے نفرت ہے دور ہو جائے اس کے اوپر لکھا ہے ماموں جان “۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”ماموں جان“ کے الفاظ سے کیسے پتہ لگا کہ یہ خط عبدالمنان کو لکھا گیا ہے۔سو اس کا پتہ اس طرح لگتا ہے کہ جس دن یہ خط ملا اور مولوی صاحب نے مجھے بھیجا اور کہا کہ یہ میرے بیٹے کو بازار سے ملا ہے تو اُس دن