خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 643 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 643

خطابات شوری جلد سوم ۶۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ہماری خوشی اور ہماری راحت کا وقت وہی ہوگا اس لئے دُعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صرف بجٹ پاس کرنے کی ہی توفیق نہ دے بلکہ بجٹ میں جو رقوم درج ہیں اللہ تعالیٰ اُن سے بہت زیادہ سلسلہ کے لئے مالی قربانی کی ہمیں توفیق دے اور پھر جماعت کی مالی حیثیت اور اس کی تعداد کو بڑھاتا جائے یہاں تک کہ ہمارا بجٹ کروڑوں نہیں اربوں اور کھر بوں تک پہنچ جائے گا اور دُنیا کا کوئی ملک اور کوئی گوشہ ایسا نہ ہو جس میں ہم مسجد میں نہ بنالیں اور کوئی گوشہ ایسا نہ ہو جس میں ہماری طرف سے اسلام کے مبلغ موجود نہ ہوں۔اسی طرح جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے یہ بھی دُعائیں کرو کہ ہماری گورنمنٹ کے لئے جو تجارت کی دقتیں ہیں، اسی طرح فارن کرنسی کی ہوتیں ہیں خدا تعالیٰ انہیں دُور کرے۔پھر حکومت کا دل بھی وسیع کرے کہ جو ہمارے لئے زیادہ سے زیادہ کرنسی منظور کرے جس کے ساتھ مسجدیں بھی بنیں اور مبلغ بھی باہر جاسکیں۔غرض اللہ تعالیٰ دینی اور دنیوی دونوں حالتوں میں ہماری بھی اور ہمارے ملک کی بھی مدد کرے۔دُعا کے بعد سب سے پہلے ایک ریزولیوشن پیش ہوگا جس کے متعلق میں نے جلسہ میں بھی ذکر کیا تھا۔اس کے بعد سب کمیٹیاں تجویز کی جائیں گی۔اب سب لوگ میرے ساتھ شامل ہو کر دعا کر لیں۔“ اس کے بعد حضور نے دعا کروائی اور دعا کے بعد فرمایا :- انتخاب خلافت کے متعلق ایک ریزولیوشن ”اب میں باقی ایجنڈا شروع کرنے سے پہلے مولوی ابوالعطاء صاحب کو ہدایت دیتا ہوں کہ وہ ریزولیوشن جو میری ہدایت کے مطابق بنایا گیا ہے اور جلسہ سالانہ پر انتخاب خلافت کے سلسلہ میں میں نے اس کا ذکر کیا تھا پڑھ کر سنا ئیں۔“ اس پر مولوی ابوالعطاء صاحب سٹیج پر تشریف لائے اور آپ نے مندرجہ ذیل تقریر کی:۔مسئلہ خلافت اسلام کا ایک اہم مسئلہ ہے اور جماعت احمد یہ نصف صدی سے پوری وضاحت اور یقین کے ساتھ اس پر قائم ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کا انتخاب ہوا تو جماعت نے بالا تفاق اس بات کا