خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 642
خطابات شوری جلد سوم ۶۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء کستان میں ہی ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی تجارت میں برکت دے اور ملک کا ایکسچینج بڑھ جائے اور ہماری جماعت کو بھی کثرت سے ایکسچینج مل سکے تو ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی سرعت کے ساتھ مسجدیں بنا سکتے ہیں۔وقت زیادہ تر ایکسچینج کی ہوتی ہے۔باہر کے لوگ چونکہ ہماری حکومت کے قانون کے نیچے نہیں ہوتے اس لئے کچھ تو گورنمنٹ ایکسچینج دیتی ہے اور کچھ ہمارے غیر ملکی احمدیوں سے امدا دمل جاتی ہے اور ان دونوں کو ملا کر مبلغوں کا خرچ بھیجا جاتا ہے اور مساجد کی تعمیر کی کوشش کی جاتی ہے لیکن پاکستان گورنمنٹ سے حاصل کردہ اینچ اور غیر ملکی احمدیوں کی مدد ملا کر بھی اتنی رقم جمع نہیں ہوتی کہ ہم کوئی بڑا کام کر سکیں۔وہ رقم بہت قلیل ہوتی ہے اور بڑی مشکل سے بیرونی مشعوں کے اخراجات چلائے جا سکتے ہیں۔پس دُعائیں کرو کہ جن باتوں پر ہم یہاں غور کرنے کے لئے آئے ہیں اُن میں اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح طریق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم ایسی باتوں کا فیصلہ کریں جو اسلام اور سچائی اور امن کے لئے مفید ہوں اور ایسی باتوں کا فیصلہ نہ کریں جو اسلام اور سچائی اور امن کے لئے مضر ہوں۔خدا تعالیٰ خود ہماری راہ نمائی کرے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ہم بڑے غور وفکر کے ساتھ ایک بات کے متعلق یہ خیال کریں کہ وہ ہمارے لئے مفید ہو گی لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ بُری ہو۔پس خدا کرے کہ ہمارے ذہن میں وہ باتیں آئیں جو ہمارے نزدیک بھی اچھی ہوں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی ہوں تا کہ اس سے ہم کو بھی فائدہ پہنچے ، اسلام کو بھی فائدہ پہنچے اور دین حلقہ کو بھی فائدہ پہنچے۔پس تم یہ دُعائیں کرو اور یہ دُعا بھی کرو کہ تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کا جو بجٹ ہم پاس کریں اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔بجٹ شاندار بنا لیا جائے چاہے دس لاکھ کا بنا لیا جائے لیکن آئے دس ہزار بھی نہیں تو اس بجٹ کا فائدہ کیا ہے۔اس دفعہ خدا تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کا بجٹ ۲۸ لاکھ کا ہے مگر ۲۸ لاکھ کا بجٹ تبھی بابرکت ہوسکتا ہے جب ۲۸ لاکھ کی بجائے ۳۰ لاکھ آئیں۔ہم تو اُس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب کروڑوں نہیں اربوں کا بجٹ ہوا کرے گا اور دُنیا کے چپہ چپہ پر مسجد میں ہوں گی اور دُنیا کے چپہ چپہ پر اسلام کا مبلغ ہوگا اور