خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 617

خطابات شوری جلد سوم ۶۱۷ رت ۱۹۵۶ء کے مقابلہ میں رڈی سے روی زمین بھی شمار کر لی جائے تب بھی اس زمین کی آمد چار لاکھ روپیہ سے زیادہ ہونی چاہئے لیکن اس سال بجٹ میں صرف ڈیڑھ لاکھ روپیہ آمد دکھائی گئی ہے۔پچھلے سال فصل خراب ہو گئی تھی تب بھی دو لاکھ روپیہ آمد ہوئی لیکن اس سال پہلے ہی اندازہ لگا لیا گیا ہے کہ تباہی آجائے گی اور اس کا فصل پر اس قدر اثر پڑے گا کہ پچھلے سالوں سے بھی کم آمد ہو گی حالانکہ اس سال تین چار لاکھ روپیہ آمد کا اندازہ ہونا چاہئے تھا۔میں نے محکمہ سے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ ممکن ہے پچھلے سال کی طرح اس سال بھی تباہی آجائے اس لئے ہم نے آمد کا کم اندازہ لگایا ہے۔گویا خدا تعالیٰ پر پہلے ہی بدظنی کر لی گئی ہے اور سمجھ لیا گیا ہے کہ ہم پر ضرور تباہی آئے گی حالانکہ اگر صحیح طور پر محنت کی جائے تو اس زمین سے پانچ لاکھ روپیہ نفع آنا چاہئے۔مجھے ایک دفعہ مرزا مظفر احمد صاحب نے بتایا کہ گورنمنٹ نے لائل پور کے پاس ایک جگہ پچاس پچاس ہزار روپیہ پر مربعے ٹھیکہ پر دیئے تھے لیکن پانچ پانچ چھ چھ ہزار روپیہ فی مربع کی مثالیں تو بڑی کثرت سے ملتی ہیں۔پچھلے سال میں نے جھنگ کی زمین کا اندازہ لگوایا۔میرا ایک لڑکا جھنگ گیا تو اُس نے بتایا کہ وہاں پندرہ بیس مربعے ایسے ہیں جو دس دس ہزار روپیہ ٹھیکہ پر چڑھے ہوئے ہیں۔اب اگر چار سو مربعے دس دس ہزار روپیہ ٹھیکہ پر چڑھے ہوئے ہوں تو چالیس لاکھ روپیہ سے ہم سارے یورپ میں مساجد تعمیر کر سکتے ہیں۔ایک مسجد پر قریباً ایک لاکھ روپیہ لگتا ہے۔پس چالیس لاکھ روپیہ میں چالیس مساجد بنائی جاسکتی ہیں اور اگر اس سارے روپیہ سے مساجد بنائی جائیں تب بھی اس سے سارے یورپ میں مشنوں اور مساجد کی تعداد کو دو گنا کیا جا سکتا ہے لیکن ہماری مثال تو اُس میراثی کی سی ہے جس نے بھرتی ہونے سے پہلے ہی اپنے آپ کو مُردہ تصور کر لیا تھا۔کہتے ہیں کوئی میراثی تھا جو ہمیشہ بیکا ر رہتا تھا جب اس کی بیکاری سے تنگ آ کر اُس کی بیوی اُسے کوئی کام کرنے کے لئے کہتی تو وہ جواب دیتا کہ بڑی دقت تو یہی ہے کہ ان دنوں کوئی کام نہیں ملتا۔اتفاق کی بات ہے کہ اُن دنوں اس ملک کے بادشاہ کی کسی اور ملک سے جنگ ہو گئی اور اُس نے ملک میں عام فوجی بھرتی کا اعلان کر دیا۔میراثی کی بیوی نے کہا گھر میں کھانے کو کچھ نہیں اور تم کوئی کام نہیں کرتے۔اگر واقعی کوئی کام نہیں ملتا تو یہ سنہری موقع ہے تم فوج میں