خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 602
خطابات شوری جلد سوم ۶۰۲ ورت ۱۹۵۶ء پارلیمنٹ کی ممبری سے بھی زیادہ موجب عزت خیال کرے۔جب تک جماعت میں یہ احساس پیدا نہیں ہو گا وہ اپنا کام کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتی۔آخر کا موں کو تو اتر سے چلانے کے لئے ضروری ہے کہ افراد کو بھی مشورہ میں شریک کیا جائے لیکن اگر انہیں سلسلہ کے کاموں میں دلچسپی ہی نہ ہو تو گو کام پھر بھی ایک حد تک چلتا رہے گا لیکن اسے ترقی نہیں دی جا سکے گی۔مثلاً یہی کام جس کے لئے مشورہ طلب کیا گیا تھا ، ایک ناظر کر رہا تھا لیکن صدر انجمن احمدیہ نے خیال کیا کہ ناظر کے ساتھ جماعت بھی مشورہ میں شریک ہوتا یہ کام ایک آدمی کا کام نہ رہے لیکن جماعت نے یہ نمونہ دکھایا کہ جو مبر کمیشن کے طور پر مقرر کئے گئے تھے وہ اجلاس میں حاضر نہ ہوئے اور دو دفعہ کمیشن کا کورم پورا نہ ہو سکا۔اگر ان لوگوں کو گورنر لاہور میں چائے پر بلاتا اور یہ لوگ پشاور میں ہوتے تب بھی وہ اس دعوت میں شریک ہونے کے لئے چل پڑتے اور اس شرکت کو اپنے لئے موجب عزت خیال کرتے مگر سلسلہ کی کمیٹیوں میں شامل ہونا ان کے نزدیک موجب عزت نہیں۔سلسلہ کی میٹنگز میں حاضری کی اہمیت تم جو چاہوکر لولیکن یاد رکھو وہ دن آنے والا ہے جب احمدیت کے کاموں میں حصہ لینے والے بڑی بڑی عزتیں پائیں گے لیکن ان لوگوں کی اولا دوں کو جو اس وقت جماعتی کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے دھتکار دیا جائے گا۔جب انگلستان اور امریکہ ایسی بڑی بڑی حکومتیں مشورہ کے لئے اپنے نمائندے بھیجیں گی اور وہ اُسے اپنے لئے موجب عزت خیال کریں گے، اُس وقت ان لوگوں کی اولاد کہے گی کہ ہمیں بھی مشورہ میں شریک کر ولیکن کہنے والا انہیں کہے گا کہ جاؤ، تمہارے باپ دادوں نے اس مشورہ کو اپنے وقت میں رڈ کر دیا تھا اور جماعتی کاموں کی اُنہوں نے پرواہ نہیں کی تھی اس لئے تمہیں بھی اب اس مشورہ میں شریک نہیں کیا جاسکتا۔پس اس غفلت کو دور کرو اور اپنے اندر یہ احساس پیدا کرو کہ جو شخص سلسلہ کی کسی میٹنگ میں شامل ہوتا ہے اس پر اس قدر انعام ہوتا ہے کہ امریکہ کی کونسل کی ممبری بھی اس کے سامنے بیچ ہے اور اسے سو حرج کر کے بھی اس میٹنگ میں شامل ہونا چاہئے اگر وہ اس میٹنگ میں شامل نہیں ہوتا تو اس کی غیر حاضری کی وجہ سے سلسلہ کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا