خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 601

خطابات شوری جلد سوم ۶۰۱ درت ۱۹۵۶ء خدا تعالیٰ ہمیں اس تنظیم کو قائم رکھنے کی توفیق دے اور دین کی خدمت کا ولولہ اور جوش قیامت تک ہم میں قائم رہے اور ہم دین کی خدمت اس طور پر کریں کہ قرآن کریم کو دُنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز دُنیا کے کناروں تک بلند کر دیں اور کوئی انسان ایسا نہ رہے جس تک قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام نہ پہنچا ہو۔“ بعض امور کی تحقیق جماعتی مشاورت میں حصہ لینا بڑے اعزاز کا کام ہے کے لئے جماعت کی طرف سے ایک کمیشن مقرر کیا گیا۔ممبران کی سُستی کی وجہ سے اس کا اجلاس جلد نہ ہو سکا۔اس سلسلہ میں نصیحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : - ” ناظر صاحب اعلیٰ نے ابھی رپورٹ فیصلہ جات سال گزشتہ پڑھ کر سُنائی ہے۔افسوس ہے کہ مجلس شوری ۱۹۵۵ء کے فیصلہ کے مطابق صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر میں نظم ونسق اور ملازمین و پنشنرز کے حقوق و مفاد کے بارہ میں تحقیقات کرنے کے لئے جو کمیشن مقرر کیا گیا تھا اس کا دو دفعہ اجلاس بلایا گیا لیکن دونوں دفعہ اس کمیشن کا کورم جو تین ممبران پر مشتمل تھا پورا نہ ہو سکا اور اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔تیسرے اجلاس میں کورم پورا ہوا اور کارروائی کی جاسکی لیکن کمیشن کی کارگزاری کے متعلق کوئی رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جماعت کے دوستوں کو کام کی طرف توجہ نہیں۔ہماری جماعت میں تو مشورہ لینے کا کام چونتیس سال سے شروع ہے لیکن انگلستان میں یہ کام ایک ہزار سال سے ہو رہا ہے۔وہاں یہ خبر کبھی نہیں آئی کہ اجلاس میں ممبران حاضر نہ ہوئے۔وہ لوگ ان اجلاسوں میں شریک ہونے کو موجب فخر سمجھتے ہیں اور بڑے شوق سے ان کاموں میں حصہ لیتے ہیں لیکن یہاں یہ حال ہے کہ جماعت کے دوست سلسلہ کے ایک اہم کام کے متعلق جو کمیٹی بنائی گئی تھی اُس کے اجلاس میں بھی نہیں آئے۔گویا وہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے اجلاسوں میں شرکت کو تو عزت سمجھتے ہیں لیکن سلسلہ کے اجلاسوں میں شمولیت کو وہ کوئی اہمیت نہیں دیتے۔حالانکہ مومن کو چاہئے کہ وہ سلسلہ کی کمیٹیوں کو