خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 600
خطابات شوری جلد سوم ارت ۱۹۵۶ء خلافت اور تنظیم کی برکات پس یہ برکتیں اللہ تعالیٰ نے صرف ہمارے لئے رکھی تھیں۔درحقیقت ان تراجم کا کام کسی فرد کا کام نہیں تھا بلکہ خلافت ،تنظیم اور جتھے کا کام تھا۔ورنہ جماعت میں سے کون ہے جو ان تراجم میں سے ایک ترجمہ بھی شائع کروا سکتا لیکن ہم سب نے مل کر وہ کام کر لیا جو بڑے بڑے بادشاہ بھی نہیں کر سکے تھے۔کہتے ہیں ایک شخص نے موت کے وقت اپنے سب بیٹوں کو بلایا اور ایک جھاڑ و منگوا کر کہا اس جھاڑو میں سے ایک تنکا نکال کر توڑو۔اُنہوں نے اُس تنکے کو بڑی آسانی سے توڑ دیا۔اس کے بعد اُس نے انہیں جھاڑو دیا اور کہا کہ اسے تو ڑومگر ان سے نہ ٹوٹا۔اس پر اُس نے کہا میرے بیٹو! تم نے دیکھا کہ ایک ایک تنکا ذاتی طور پر کوئی قوت نہیں رکھتا، تم نے اُسے ایک انگلی کے دباؤ سے ہی توڑ دیا لیکن جھاڑو کو توڑنا تمہارے لئے مشکل ہو گیا۔اسی طرح اگر تم متفرق ہو گئے تو دُنیا کی ہر طاقت تمہیں تباہ کر سکتی ہے لیکن اگر تم اکٹھے اور متفق رہے تو تم محفوظ و مصون رہو گے۔اسی طرح یہ خلافت اور تنظیم کی ہی برکت ہے کہ جماعت نے متعدد زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع کر دیئے۔ورنہ جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا مالدار نہیں جو ان تراجم میں سے ایک ترجمہ بھی شائع کروا سکتا۔اسی طرح کوئی فرد ایسا رسوخ نہیں رکھتا کہ وہ علیحدہ طور پر کسی زبان میں بھی قرآن کریم کا ترجمہ شائع کراسکتا لیکن اجتماعی صورت میں ہم اس وقت تک انگریزی، ڈچ، روسی ، سپنیش ، پرتگیزی ، اٹالین ، جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ کروا چکے ہیں۔مشرقی افریقہ میں سواحیلی“ زبان میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے اور لو گنڈ ا زبان میں ترجمہ کا کام ہو رہا ہے۔انڈونیشین اور ملائی زبانوں میں بھی ترجمہ کا کام ہو رہا ہے۔ہندی اور گورمکھی زبانوں میں بھی ترجمہ کروایا جا رہا ہے اور اُمید ہے کہ اگلے تین چار سال میں بیس سے زائد زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع ہو جائے گا۔ہماری نیت ہے کہ ہر اہم زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع کر دیں تا کسی زبان کا جاننے والا ایسا نہ رہے جو اس سے فائدہ نہ اُٹھا سکے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے کام میں برکت دی ہے۔دُعائیں کرو کہ