خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 590

خطابات شوری جلد سوم ۵۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء ۳۶۔ایکٹر زمین اس وقت تک با قاعدہ طور پر صدر انجمن احمد یہ کے نام لگ چکی ہے اور ڈیڑھ سو ایکڑ کے قریب اور زمین ملنے کی اُمید ہے۔جب ملی یہ بھی صدرانجمن احمدیہ کے نام کرا دی جائے گی۔اس زمین کے علاوہ سابق سندھ کی زمین میں سے بھی ۸۰۔ایکٹر زمین صدر انجمن احمدیہ کے نام ہبہ کی جاچکی ہے اور یہ گل ۲۶۶۔ایکٹر بن جاتی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ سندھ میں صدر انجمن احمدیہ نے زمینوں کا انتظام کیا تو اُسے نقصان شروع ہوا لیکن جب مجھے اپنی زمین سے نفع ہونا شروع ہوا تو میں نے صدر انجمن احمدیہ کو بھی کہا کہ وہ بھی اپنی زمین میرے سپر د کر دے، میں اُس کی طرف سے انتظام کروں گا۔چنانچہ اس زمین نے ۶۰-۷۰ ہزار روپیہ سالانہ دینا شروع کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کی قیمت جو پہلے قرض لے کر ادا کی گئی تھی وہ اُتر گئی بلکہ بعد میں اس زمین سے آمد کی بھی ت پیدا ہو گئی۔اب یہ سال سندھ والوں کے لئے بڑی تکلیف کا سال ہے۔وہاں گزشتہ سال اتنی بارش ہوئی تھی کہ فصل کا ایک تنکا بھی نہیں بچا لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ اس سال بھی ان زمینوں سے ۳۰۔۳۵ ہزار روپیہ کا نفع ہوا ہے۔ویسے جب تک زمین میرے صورت انتظام میں رہی ، میں ۷۵ ۷۶ ہزار روپیہ سالانہ دیتا رہا ہوں۔غرض اللہ تعالیٰ جہاں چاہے برکت دے دیتا ہے۔ہالینڈ میں تین تین ہزار روپیہ فی ایکٹر آمد ہوتی ہے۔اگر ہماری زمینوں سے بھی اتنی آمد ہونے لگے تو صدر انجمن احمد یہ کے پاس چونکہ تین ہزار ایکٹر زمین ہے۔اس لئے ہمیں نوے لاکھ روپیہ سالانہ آ سکتا ہے بلکہ اگر اس سے نصف آمد بھی ہونے لگے تو ۴۵ لاکھ کی آمد ہو سکتی ہے۔اگر چوتھا حصہ بھی آمد ہو تو بائیس لاکھ پچاس ہزار روپیہ کی آمد ہو سکتی ہے مگر افسوس ہے کہ ہمیں ابھی تک صحیح طور پر کام کرنے والے نہیں ملے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی تحریر فرمایا تھا کہ مجھے اس بات کا فکر نہیں کہ روپیہ کہاں سے آئے گا بلکہ فکر ہے تو اس بات کا کہ روپیہ خرچ کرنے والے دیانتدار آدمی کہاں سے ملیں گے۔اس لئے دُعائیں کرو کہ کارکنوں کو اللہ تعالیٰ اپنے لئے بھی اور دین کے لئے بھی اچھے سے اچھا کام کرنے کی توفیق دے اور وہ اس طرح محنت کریں کہ تھوڑی جائیداد سے لاکھوں کی رقم پیدا کر یں۔یورپ میں چھوٹی چھوٹی جائیداد میں بڑی بڑی آمد پیدا کرتی ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہماری جائیداد سے اتنی آمد