خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 589
خطابات شوری جلد سوم ۵۸۹ رت ۱۹۵۶ء وہ بھی اپنی زمین انتظام کے لئے میرے قبضہ میں دیدے چنانچہ انہوں نے بھی زمین میرے سپرد کر دی اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف ہمیں خسارہ سے نجات ملی بلکہ وہ زمین نفع دینے لگ گئی۔رفتہ رفتہ اس آمد کے ذریعہ میں نے اور زمین بھی خرید لی اور اسی طرح میں صاحب دولت ہو گیا۔جائیداد کی تقسیم ۱۹۴۳ء میں جب میں بیمار ہوا تو میں نے اپنی وصیت لکھ کر محفوظ کر لی۔میں نے اُس میں لکھا کہ میری وفات پر میری جس قدر جائیداد ہو اس کا یہ حصہ صدر انجمن احمدیہ کو دیدیا جائے۔اس میں سے ا حصہ تو صدر انجمن احمد یہ خود خرچ کرے اور با حصہ غریبوں پر خرچ کرے۔جب مجھ پر موجودہ بیماری کا حملہ ہوا تو مجھے کسی نے کہا کہ آپ اپنی جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کر دیں۔چنانچہ میں نے اُسے تقسیم کر دیا۔ایک دن اچانک مجھے خیال آیا کہ میں نے تو اپنی جائیداد کا ہی حصہ وقف کرنے کی وصیت کی تھی مگر میں نے تو ساری جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کر دی ہے۔اس پر میری راتوں کی نیند اُڑ گئی۔میں نے اِس کا ذکر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے بھی کیا اور ملک سیف الرحمن صاحب سے بھی ذکر کیا۔اُنہوں نے کہا کہ آپ کی اس وصیت کا اطلاق صرف اس جائیداد پر ہوتا ہے جو آپ کی وفات کے بعد بچے۔اپنی زندگی میں آپ اپنی جائیداد کو اپنی مرضی سے تقسیم کر سکتے ہیں۔بعض دوسرے فقہاء کا مسلک بھی یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اِس بات کا اختیار رکھتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد جس کو چاہے دے، وصیت کا اثر صرف اس جائیداد پر ہوتا ہے جو اس کی وفات کے بعد بچے۔لیکن پھر بھی میں نے کچھ جائیداد جو تقسیم سے بچ گئی تھی صدرانجمن احمدیہ کے نام ہبہ کر دی اور اُن سے یہ شرط کی کہ وہ اس کا حصہ خود خرچ کرے اور ہا حصہ غرباء پر خرچ کیا جائے۔اس کے علاوہ میں نے اور کوئی شرط نہیں کی۔پس یہ سندھ کی زمینیں ہی تھیں جنہوں نے مجھے صاحب دولت بنایا اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔اسی طرح پچھلے دنوں جب تھل میں زمین سستے داموں مل رہی تھی۔میں نے ۶۵۰۔ایکٹر زمین خرید لی۔اس میں سے کچھ حصہ تو گورنمنٹ نے ضبط کر لیا ہے اور کچھ حصہ مجھے مل جانے کی امید ہے۔یہ ساری زمین میں نے صدر انجمن احمدیہ کے نام ہبہ کر دی ہے۔