خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 568

خطابات شوری جلد سوم ۵۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء طرف سے پچاس ہزار روپیہ دیا گیا باقی روپیہ کے متعلق تاریں دی گئیں کہ خرچ ختم ہو گیا اور اگر خرچ نہ ملا تو ہماری ذلت ہو گی لیکن کوئی خرچ نہ گیا۔اس تجربہ کے بعد کیا میں اس بات کی ہمت کر سکتا ہوں کہ تمہاری یہ بات مان لوں کہ ہم سفر کا سارا خرچ دیں گے؟ تم ہی بتاؤ اگر میرے ساتھ مبلغ نہ ہوا تو ملاقات کرنے والوں سے بات کون کرے گا؟ اگر سیکرٹری کا عملہ نہ ہوا تو تمہاری چٹھیوں اور تاروں کا جواب کون دے گا؟ کیا سیکرٹری کے عملہ کے لئے حکومت امریکہ سے درخواست کی جائے گی ؟ تم نے مجھے ۶۰ ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا ہے اور صرف تمہارے عملہ کا خرچ اندازاً ایک لاکھ دس ہزار روپیہ ہے۔گویا اس کا یہ مطلب ہے کہ عملہ کا باقی خرچ بھی تم نے مجھ پر ڈال دیا ہے۔پس میں صحت کی خرابی کی وجہ سے امریکہ جا تو نہیں سکتا لیکن اگر حالات اس قسم کے پیدا ہو گئے کہ مجھے امریکہ جانا پڑا تو میں کسی کے خرچ پر جانے کو تیار نہیں ہوں۔تم اپنے آدمیوں کو ہی خرچ دے دو تو کافی ہے انگلستان میں میں بہت ذلیل ہوا تھا۔نوکر شور مچاتا تھا کہ مجھے تنخواہ دو لیکن ہمارے پاس روپیہ نہیں تھا۔میرے اپنے پاس کچھ روپیہ تھا اُس سے ہم کسی حد تک گزارہ کر لیتے تھے۔پس اگر جماعت کوئی قدم اُٹھانا چاہتی ہے تو ضروری ہے کہ وہ اس کی اہمیت کو بھی سمجھ لے۔جب میں انگلستان گیا تھا اُس وقت جماعت مالی لحاظ سے کمزور تھی لیکن پھر بھی اگر وہ انگلستان کے سفر کی اہمیت کو سمجھ لیتی تو وہ روپیہ کا انتظام کر لیتی۔اُس وقت پانچ ہزار روپیہ کی ایک رقم میرے بنک کے حساب میں جمع ہوگئی تھی اُس وقت صدر انجمن احمد یہ قرض لے رہی تھی۔میں نے صدر انجمن احمد یہ کولکھا کہ یہ رقم کیسی ہے؟ تو اُس نے بیرونی جماعتوں سے تحریراً دریافت کیا کہ کیا یہ رقم تم نے بطور قرض دی ہے؟ تو کسی جماعت نے بھی یہ نہ لکھا کہ ہم نے یہ رقم بطور قرض صدر انجمن احمدیہ کو دی ہے۔یہ رقم نذرانہ کے طور پر کسی نے مجھے دی تھی ورنہ میرے پاس بھی زائد روپیہ نہیں تھا کہ عملہ کے لوگ مجھ سے قرض لے لیتے۔غرض بڑی مصیبت کے ساتھ وہ سفر ختم ہوا۔پس انسان کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے۔جو کام ہو سکتا ہے کر دیا جائے اور جس بات کے متعلق ایک دفعہ بات منہ سے نکال دی جائے اُسے جان مار کر پورا کیا جائے۔بہر حال جو ریزولیوشن پاس کیا گیا ہے، درست نہیں۔میں نے بنگال جانے کا ارادہ