خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 42
خطابات شوری جلد سوم ۴۲ مشاورت ۱۹۴۴ء ہتھیار مہیا کیا جا سکے۔ہمارے پاس تو نہ تو ہیں ہیں نہ تلواریں ہیں، نہ نیزے ہیں نہ بندوقیں، نہ موٹریں ہیں نہ ہوائی جہاز ہیں، نہ گولہ اور بارود ہے تم جس طرح چاہو دشمن کا مقابلہ کرو، ظاہر ہے کہ ایسی فوج دشمن کے مقابلہ میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔جب اس کے پاس سواریاں نہیں ہوں گی ، جب اُس کے پاس تو ہیں اور بندوقیں اور تلوار میں نہیں ہوں گی ، جب اُس کے پاس گولہ اور بارود نہیں ہوگا تو اُس نے مقابلہ کیا کرنا ہے۔محض آدمیوں سے تو مقابلہ نہیں ہوسکتا۔مقابلہ کے لئے سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔جب تک سامان نہ ہو کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ تربیت یافتہ فوج بھی اپنے کارنامے نہیں دکھا سکتی۔یہی حال صدر انجمن احمدیہ کا تھا۔کام کرنے والے موجود تھے مگر ان کے پاس کام کے سامان مفقود تھے۔ظاہر یہ ہوتا تھا کہ وہ کام کر رہے ہیں لیکن حقیقتا صرف انفرادی جدو جہد کے ماتحت ایک مخلص آدمی جس قدر کام کر سکتا ہے اُسی قدر کام ہمارے شعبوں میں ہو رہا تھا۔ورنہ سامان اور روپیہ کے فقدان کی وجہ ہمارے کاموں میں ایک تعطل سا پیدا ہو چکا تھا۔غرض ہم پر ایک بہت بڑی مصیبت کا زمانہ گزرا ہے مگر اب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے موجودہ دور میں ہماری مشکلات کو دور کرنے کے سامان پیدا فرما دیئے ہیں۔چنانچہ قرض جو صدر انجمن احمدیہ پر دیر سے چلا آ رہا تھا قریباً قریباً اُتر چکا ہے صرف تھوڑا سا باقی ہے جس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعت کے دوست تعاون سے کام لیں اور اپنی مستیوں کو ترک کر کے چندوں کی با شرح ادائیگی میں اعلیٰ نمونہ دکھا ئیں۔ابھی بہت سا حصہ ہماری جماعت میں ایسے لوگوں کا موجود ہے جو چندہ نہیں دیتے، بہت سا حصہ ایسے لوگوں کا موجود ہے جو پورا چندہ نہیں دیتے، بہت سا حصہ ایسے لوگوں کا موجود ہے جو اپنے بقالوں کو ادا کرنے کی کوشش نہیں کرتے ، بہت سا حصہ ایسے لوگوں کا موجود ہے جو چندہ جلسہ سالانہ تو ادا کرتے ہیں مگر شرح کے مطابق ادا نہیں کرتے۔پھر بہت ساحصّہ ایسے لوگوں کا بھی موجود ہے جو اپنی قربانیوں میں ترقی نہیں کر رہا حالانکہ سلسلہ کے کام روز بروز بڑھ رہے ہیں۔پس تمام دوستوں کو چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں پر گرفت کریں اور اُن کو سلسلہ کی ضروریات کی طرف توجہ دلائیں۔جو لوگ چندہ نہیں دیتے اُن کو چندہ دینے پر مجبور کریں۔جو لوگ چندہ تو دیتے ہیں مگر پوری شرح سے نہیں دیتے اُن کو با شرح چندہ ادا کرنے پر مجبور