خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 544

خطابات شوری جلد سوم ۵۴۴ مشاورت ۱۹۵۲ء ہمارے سلسلہ پر پہلے بھی کئی نازک دور آئے مگر ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد فرمائی اور اب بھی مجھے یقین ہے کہ اگر دوستوں نے دعاؤں سے کام لیا اور اپنے اندر قربانی اور ایثار کے مادہ کو ترقی دی تو یہ مشکلات دُور ہو جائیں گی اور سلسلہ کی ترقی پہلے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ ہونے لگے گی۔بہر حال اب میں دُعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے دوستوں کی مدد فرمائے اور انہیں اپنے اندر ایک نیا تغیر پیدا کرنے کی توفیق عطا کرے تا کہ وہ سلسلہ کے بوجھوں کو ہلکا کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے آگے بڑھیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رضا اور خوشنودی کا وارث بنائے۔سچی بات تو یہ ہے کہ زندگی وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں گزرے اس کے بغیر روح کو تازگی حاصل نہیں ہوسکتی۔وہ غفلت کی حالت میں جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔مُردنی اس پر چھا جاتی ہے اور ترقی کی را ہیں اس کے لئے بند ہو جاتی ہیں۔پس دعائیں کرو اور اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ خدمت دین میں لگاؤ۔یہی بات دیکھ لو بظاہر کتنی معمولی ہے لیکن نتائج کے لحاظ سے کتنی اہم ہے کہ میں نے ایک سرسری تحریک کی اور اسی ہال میں مساجد کے لئے ۵ ہزار روپیہ جمع ہو گیا۔یہ بات بتاتی ہے کہ ہماری جماعت کے اندر ایک زندہ ایمان موجود ہے، قربانی کا مادہ نہایت نمایاں طور پر پایا جاتا ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سلسلہ کی مشکلات کا ہر فرد کو احساس دلایا جائے تاکہ اس کی مخفی قوتیں بیدار ہوں اور وہ اپنے فرائض کو صحیح رنگ میں ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔اب میں بھی دُعا کرتا ہوں دوست بھی میرے ساتھ دُعا (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء) 66 میں شریک ہو جائیں۔“ ا تذکرہ صفحہ ۳۸۰۔ایڈیشن چهارم ل هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔(الصف: ١٠) مسلم کتاب السلام باب الطَّاعُون والطيرة (الخ) ۴ تاریخ ابن اثیر جلد ۳ صفحه ۱۱۴۔۱۱۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء ۵ اسد الغابة جلد اصفحہ ۲۳۷ - ۲۳۸ مطبوعہ ریاض ۱۳۸۴ھ