خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 530
خطابات شوری جلد سو ۵۳ مشاورت ۱۹۵۲ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بادشاہوں کو خطوط بھیجے تو کیا بحرین کے بادشاہ نے مانا یا نہیں؟ دیکھو یہ کتنی دلیری تھی کہ اس نے اسلامی بادشاہت قائم کرنے کے لئے لکھا۔نجاشی نے اسلام لانے کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ فائدہ نہیں اُٹھایا اس لئے بعض لوگوں کے نزدیک وہ مسلمان نہیں تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نجاشی کا جنازہ پڑھو نیز فرمایا میرے بھائی نجاشی نے یوں کہا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ مومن تھا لیکن چونکہ اس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ جس سے دوسرے مذاہب کے ساتھ ٹکراؤ ہو اس لئے بعض لوگ غلطی سے اسے مسلمان نہیں سمجھتے۔لیکن بحرین کا بادشاہ نہ صرف مسلمان ہوگا بلکہ مسلمان ہو کر اس نے اپنے علاقہ میں اسلامی حکومت کے قیام کی درخواست کی بلکہ اسلام میں جو یہ مسئلہ آتا ہے کہ عیسائیوں، مجوسیوں ، اور دیگر مذاہب والوں سے حُسنِ سلوک کرو، یہ اسی کی وجہ سے ہے۔اس نے یہ دریافت کیا تھا کہ میری حکومت میں عیسائی بھی رہتے ہیں، مجوسی بھی رہتے ہیں، یہودی بھی رہتے ہیں میں ان کے ساتھ کیا سلوک کروں؟ کیا میں انہیں ملک سے نکال دوں ؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں۔انہیں نکالنے کی ضرورت نہیں، تم ان سے حسن سلوک کرو تا پس تبلیغ ہر ایک شخص کے لئے ضروری ہے۔پھر اپنے اپنے حلقہ میں تبلیغ ضروری ہے۔- اس وقت صرف ایک جگہ پر صحیح رنگ میں تبلیغ ہو رہی ہے اور وہ شیخو پورہ ہے۔چوہدری انور حسین صاحب نئے آدمی ہیں، نوجوان ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ وہ کمزور ہیں لیکن اُنہوں نے اچھی تبلیغ شروع کی ہے اور وہاں کے زمینداروں سے بھی بعض احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور بعض کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہ احمدیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ دوسری جگہوں پر بھی تبلیغ مؤ ثر نہ ہو۔کراچی میں بھی پچھلے دنوں ایک ڈاکٹر اور ایک وکیل احمدی ہوئے ہیں۔لاہور میں کوئی بڑا آدمی احمدی نہیں ہوا۔گجرات میں چھ سات سال ہوئے مولوی ظہور الدین صاحب پلیڈر احمدی ہوئے تھے۔اس کے بعد اس طبقہ میں سے کوئی احمدی نہیں ہوگا اور میں سمجھتا ہوں کہ جب کوئی شخص کسی اعلیٰ طبقہ میں داخل ہو جاتا ہے تو اکثر یہ بات اُس کی فطرت میں داخل ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے طبقہ میں تبلیغ نہیں کرتا۔مثلاً بڑے بڑے زمینداروں میں سے کچھ عرصہ سے کوئی احمدی نہیں