خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 526

خطابات شوری جلد سوم ۵۲۶ مشاورت ۱۹۵۲ء عہد کیا کہ وہ زیادتی کے حصہ کے علاوہ ہر سال مئی کی آمد کا پانچ فیصدی مسجد فنڈ میں دیا کریں گے۔تاجروں کے پہلے سو دے کی تشریح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔" تاجر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو نقد و نقد بیچتے ہیں اور ایک وہ جو آڑھتی یا اسی قسم کے اور تاجر ہیں۔جو دکاندار نقد و نقد بیچتے ہیں وہ ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سو دے کا نفع نکال کر مسجد فنڈ میں دیں اور جو آڑھتی ہیں وہ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کے پہلے سو دے کا نفع نکال کر مسجد فنڈ میں دیں۔اگر پہلی تاریخ کو وہ صرف سو دا کرے، اُسے کوئی آمد نہ ہو تو وہ سو دا سلسلہ کے نام پر رہے گا اور جب اس میں نفع ہوگا وہ سلسلہ کا ہوگا۔“ اس کے بعد فرمایا۔میں نے اشاعت لٹریچر اشاعت لٹریچر کے متعلق ایک خصوصی ہدایت سے متعلق فیصلہ کر دیا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کی طرف سے دولمیٹڈ کمپنیاں بنائی جائیں۔جو دوست ان کمپنیوں میں حصہ لیں گے اُنہیں ثواب بھی حاصل ہوگا اور فائدہ بھی ہو گا۔گزشتہ سال سے میں تحریک اور صدر انجمن احمدیہ کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ جب ہمیں ہر کاروبار میں نقصان ہی نقصان ہوتا ہے تو کیوں نہ وہ تجارت کی جائے جو ہمارے کام کے مطابق ہو۔تا کہ اگر اس میں فائدہ نہ ہو تو ہمیں نقصان بھی نہ ہو۔پچھلے دنوں الفضل میں میری طرف منسوب کر کے یہ قول شائع ہو گیا کہ اگر میں آزاد ہوتا تو میں عطر کی تجارت کرتا تا کہ اگر مجھے کوئی نفع نہ پہنچتا تو اس کی ریح تو مجھے پہنچتی۔میں نے لکھنے والے کو پکڑا تو اس نے کہا میں نے تو ٹھیک لکھا تھا لیکن کتابت کرنے والے نے غلط لکھ دیا۔یہ قول حضرت عمرؓ کا ہے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو میں عطر کی تجارت کرتا۔اگر اس تجارت میں مجھے کوئی نفع نہ پہنچتا تو مجھے خوشبو تو پہنچتی۔اسی طرح میں نے کہا کہ تم لٹریچر کی تجارت کرو۔جتنا لٹریچر شائع ہو گا اتنا ہی ہمارا پروپیگنڈا ہو گا اور اگر ہمیں مالی لحاظ سے گھاٹا بھی پڑے گا تو کم از کم ہمیں یہ فائدہ تو پہنچے گا کہ ہم خود اس لٹریچر سے فائدہ اُٹھا لیں گے۔میں تو سال بھر سے یہ تحریک بھی کر رہا ہوں اور میں نے ناظروں کو بلا کر بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ