خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 525

خطابات شوری جلد سوم ۵۲۵ مشاورت ۱۹۵۲ء تو بڑی بات نہیں اس سے زیادہ بھی آسکتا ہے۔پھر شادیوں بیاہوں میں جہاں لوگ اور جگہوں پر روپیہ خرچ کرتے ہیں وہاں مسجد فنڈ میں بھی کچھ نہ کچھ دے دیا کریں۔اب پیشوں کو لیجئے۔میں نے بتایا تھا کہ پیشہ ور اپنی اوسط آمدن لگا کر اس پر جو ماہانہ زیادتی ہو اُس کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دیں۔دوسری صورت یہ بھی ہے کہ مہینہ میں ایک گاہک مقرر کر لیں۔مثلاً وکیل یہ کریں کہ فلاں مقدمہ میں مؤکل جو فیس ہمیں دے گا وہ ہم مسجد فنڈ میں دے دیں گے۔ان دونوں تجاویز میں سے جو تجویز زیادہ سہولت والی ہو وہ 66 مقرر کر لیں۔“ اس پر وکلاء کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے کہا ہم اپنی ماہوار آمد کی زیادتی کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دیں گے۔حضور نے فرمایا :- وکالت مال کو چاہئے کہ وہ وکلاء، ڈاکٹروں، کنٹریکٹروں اور دوسرے پیشہ وروں کی فہرستیں بنالے۔اب رہ گئے مستری ، مزدور، لوہارا ور ترکھان وغیرہ۔ان کے متعلق میری تجویز یہ ہے کہ وہ مہینہ میں کوئی ایک دن مقرر کر لیں۔وہ مہینہ کا پہلا دن ہو یا آخری دن۔اس تاریخ کی جو مزدوری اُنہیں ملے وہ اس کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دیں۔مثلاً وہ اگر اُس دن پانچ روپے کمائیں تو ۶ آنہ مسجد فنڈ میں دیں اور اگر ڈیڑھ روپیہ کمائیں تو سوا دو آنہ مسجد فنڈ میں دیں۔اگر لوہاروں، ترکھانوں یا مزدوروں میں سے ان کا کوئی نمائندہ یہاں آیا ہوتو وہ کھڑا ہو جائے۔“ اس پر ان پیشوں سے تعلق رکھنے والے نمائندے کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے عہد کیا کہ وہ مہینہ میں سے پہلے دن کی مزدوری کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دیا کریں گے۔اس کے بعد حضور نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔" مرزا عبدالحق صاحب کہتے ہیں کہ پہلی تجویز میں جیسا کہ کہا گیا ہے کہ وکلاء اپنی سالانہ آمد کی زیادتی کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دیں، ہر ایک وکیل نہیں آ سکتا۔مرزا عبدالحق صاحب کی تجویز ہے کہ علاوہ زیادتی کے پہلے ماہ کی آمد کا پانچ فیصدی حصہ ہر ایک وکیل دے۔“ اس پر سب وکلاء کھڑے ہو گئے اور اُنہوں نے اس ترمیم سے اتفاق کیا۔یعنی اُنہوں نے