خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 519
خطابات شوری جلد سوم زكوة ۵۱۹ مشاورت ۱۹۵۲ء ساٹھ ہزار روپے کے قریب ہیں۔دونوں محکموں نے گورنمنٹ کے بعض قوانین کی عدم پابندی کر کے ان رقوم کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔گورنمنٹ کا قاعدہ ہے کہ ایسی رقوم کو محکمہ سے چیک کروا کے معین کروا لیا جائے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔کالج اور سکول کا کام ہے کہ وہ ان رقوم کو وصول کریں۔اس طرح ہمیں ۶۰۔۷۰ ہزار روپیہ مل سکتا ہے اور اس سے اور عمارت مثلاً بورڈنگ ہاؤس ہی بن سکتا ہے۔میں نے مساجد کے متعلق بھی ایک نوٹ لکھا تھا۔دراصل باوجود توجہ دلانے کے جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔اگر لوگ تھوڑی بہت توجہ بھی کرتے تو ہم امید کرتے تھے کہ دو تین سال میں مطلوبہ رقوم جمع ہو جاتیں۔ایک دوست نے کہا تھا کہ اگر جماعت پورے طور پر زکوۃ دے تو ایک لاکھ کی رقم جمع ہو جاتی ہے حالانکہ اگر جماعت زکوۃ دے تو آبادی کا صرف دس فیصدی حصہ زکوۃ دیتا ہے، اس طرح ایک لاکھ روپیہ چالیس لاکھ افراد سے آ سکتا ہے لیکن جماعت اڑھائی لاکھ کی ہے اور ہم اندازہ کرتے ہیں کہ بیرونی جماعتوں کو ملا کر ہماری جماعت پانچ لاکھ کی ہے، اب کجا چالیس لاکھ اور گجا اڑھائی لاکھ۔حقیقت یہ ہے کہ زکوۃ کی جو تفاصیل شریعت نے بیان کی ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری جماعت میں تین ہزار آدمی بھی ایسا نہیں بنتا جو زکوۃ دینے والا ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ کے دو حصے ہوتے ہیں اور عام طور پر زکوۃ پر بحث کرنے والے اس سے غافل ہیں۔ایک حصہ وہ ہے جسے انسان خود خرچ کرنے کا مجاز ہے اور ایک حصہ وہ ہے جو حکومت لیتی ہے۔جو زکوۃ حکومت لیتی ہے اس نے اس کا نام اب بدل دیا ہے۔پس اس کا مطلب یہ نہیں کہ دُہری زکوۃ لگا دی جائے۔ایک زمیندار جو زکوۃ حکومت کو ادا کرتا ہے، اسلام میں اسے زکوۃ کہتے ہیں لیکن انگریزوں نے اسے ریونیو کہہ دیا ہے۔پاکستان والے بھی اسے ریونیو کہتے ہیں۔اب ریونیو کہنے سے ہم وہ زکوۃ نہیں لے سکتے۔وہ بہر حال زکوۃ ادا کرتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض جگہ حکومت زکوۃ سے دو گنا ٹیکس لے رہی ہے۔جانوروں پر زکوۃ واجب ہے، پنجاب میں بہت کم لوگ جانور رکھتے ہیں لیکن سندھ میں لوگ جانور رکھتے ہیں ، اب زکوٰۃ لگے گی تو حکومت لے گی اور کوئی نہیں لے گا۔تجارتوں پر زکوۃ ہے لیکن یہ زکوۃ بھی حکومت لیتی ہے اور ٹیکس کی صورت میں لیتی ہے۔اب یہ نہیں کہ چونکہ اس زکوۃ کا