خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 518

خطابات شوری جلد سوم ۵۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء ایک وقت میں ہال میں بیٹھ سکیں گے۔ ہمارے لئے ضروری تھا کہ ہال تیار کرتے لیکن ابھی تک ہال تیار نہیں ہوا۔ یہاں روپے کا بھی سوال نہیں تھا روپیہ عمارت کے لئے آ رہا ہے خواہ وہ کم مقدار میں آ رہا ہے لیکن آ رہا ہے۔ میں نے چوہدری صاحب سے ایک بات کہی ہے اگر خدا تعالیٰ ہمیں کامیاب کر دے تو ایک اور صورت بھی پیدا ہو جائے گی ۔ دفاتر کے لئے روپیہ موجود ہے اور تجویز یہ ہے کہ دفاتر کے پہلو میں ایک ہال بن جائے اور یہ ہال ۵۰×۱۰۰ فٹ کا ہو۔ اگر اتنا بڑا ہال بن جائے تو یہ قاد بڑا ہال بن جائے تو یہ قادیان کے ہال سے ڈیوڑھا ہوگا۔ پھر گیلریاں بھی ہوں گی اور اس طرح اجتماع آسانی سے ہو سکے گا۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ اب تک ہال نہ بن چکا ہوتا ۔ میں اس کے لئے ۹۰ ہزار روپیہ کی بھی منظوری دے دیتا۔ ابھی لجنہ کے ہال کی بنیادیں بھی نہیں گھری تھیں کہ اُس وقت میں نے صدر انجمن احمد یہ کو ہال بنوانے کے لئے کہا تھا۔ میں حیران ہوں کہ اس قدر کوتا ہی سے کام کیوں لیا گیا ہے۔ ربوہ کی عمارات کی تاریخ عمارت کی تاریخ اور ریکارڈ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ربوہ کی تمام عمارات میری ممنونِ احسان ہیں ۔ چاہے ناظر یہ کہہ دیں کہ میں بڑا ظالم ہوں لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی ایک عمارت بھی نظارت نے بنوائی ہے میں نے روزانہ سختیاں کر کر کے اور یہ کہہ کر کہ جب تک فلاں عمارت نہ بنے کا رکن دو گھنٹہ زائد وقت دفاتر میں بیٹھیں یہ عمارتیں بنوائی ہیں ۔ صدرانجمن احمد یہ کے دفاتر کا کام میں نے سب سے اچھے آدمی کو دیا تھا اور ادھر تحریک جدید کے دفاتر کا کام میں نے کا چوہدری فقیر محمد صاحب مرحوم کے سپرد کیا تھا مگر دونوں دفاتر والوں نے سُستی سے کام لیا ہے۔ اُس وقت یہ شکوہ تھا کہ اینٹیں نہیں ملتیں ۔ اب اینٹیں ملنے لگ گئی ہیں بلکہ شکایت ہے تو یہ کہ اینٹیں اُٹھائی نہیں جاتیں، اینٹیں بہت زیادہ ہیں ۔ بہر حال اگلے سال تک ہال بن جانا چاہئے ۔ روپیہ منظور ہے اور دفاتر کی جگہ پر نشان لگا دیا گیا ہے ۔ اس سال دفا تر مکمل ہو جانے چاہئیں تا کہ اگلے سال مجلس شوری کا اجلاس وہاں ہو سکے ۔ جہاں روپے کی دقت بتائی گئی ہے وہاں میرے خیال میں اس کی ذمہ داری اوروں پر بھی آتی ہے۔ مثلاً میرے خیال میں بعض رقوم سکول پر خرچ ہوئی ہیں گورنمنٹ کے قانون کے مطابق یہ رقوم واپس ملنی چاہئیں ۔ اسی طرح کا لج پر بھی بعض رقوم خرچ ہوئی ہیں اور یہ رقوم