خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 517

خطابات شوری جلد سوم ۵۱۷ مشاورت ۱۹۵۲ء میں نے جواب دیا کہ کوشش یہی کرو کہ بجٹ کم رہے لیکن میں یہ پابند نہیں کرتا کہ اس سال یا اس سے پہلے سال کے بجٹ کے مطابق بجٹ بنایا جائے اور پھر دس فیصدی کی کمی کر دی جائے۔اب اس سال یا اس سے پہلے سال اور کسی سال میں فرق ہے۔کسی سال کا یہ مطلب ہے کہ صدر انجمن احمد یہ آزاد ہے وہ کوئی ایک سال اپنی مرضی سے چن لے اور اس کے مطابق بجٹ بنا کر اس میں دس فیصدی کی کمی کر دے۔لیکن اس سال یا پچھلے سال میں وہ مقید رہتی ہے۔پس یہ غلط ہے کہ میں نے کسی سال“ کے الفاظ کہے تھے۔میں نے ۵۱۔۱۹۵۰ء کے متعلق اجازت دی تھی یا ۵۲ - ۱۹۵۱ء کے متعلق اجازت دی تھی اور کہا تھا کہ ان میں سے کوئی ایک سال لے لو اور اس پر بجٹ کی بنیاد رکھو لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ ایسے قاعدے ہمیشہ نہیں چلا کرتے۔چار پانچ سال کے بعد پھر اس قاعدہ پر غور ہوسکتا ہے۔بہر حال اب بھی میں کہتا ہوں کہ ہماری آمد نیں محدود ہیں اور کام کو ہم نے وسیع کرنا ہے اس لئے ایسی صورت ہونی چاہئے کہ ہمارے پاس کچھ رقم جمع ہوتا کہ ہم ہنگامی کام کرسکیں۔اس وقت ہم ہنگامی کام نہیں کر سکتے۔مجلس شورای کا ہال دوسری چیز جو بظاہر خرچ کے متعلق ہے اور اس وقت میرے دل میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت ہم لجنہ اماءاللہ کی مہربانی سے ان کے ہال میں بیٹھے ہیں۔گویا مجلس شوریٰ کا اجلاس جو یہاں ہو رہا ہے اس کے لئے ہم عورتوں کے ممنونِ احسان ہیں۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ عورتیں مردوں سے چندوں کے معاملہ میں پیش پیش ہیں اور ان میں بیداری پائی جاتی ہے۔میں نے ایک دفعہ مردوں کو طعنہ دیا تو ایک دوست نے کہا کہ عورتیں آخر ہم سے ہی لے کر دیتی ہیں۔میں نے کہا عورتیں پھر بھی ہمت والی ہیں۔تمہارے پاس روپیہ ہوتا ہے لیکن تم دیتے نہیں۔ان کے پاس روپیہ نہیں ہوتا پھر بھی وہ تم سے لے کر دے دیتی ہیں۔یہ کیا ہی شاندار عمارت ہے جو عورتوں نے بنالی ہے۔یہ ہال میرے مشورہ سے بنا ہے اور عمارت کو اس طرز پر بنایا گیا ہے کہ ضرورت پڑے تو اسے وسیع کر لیا جائے۔اب یہ ۳۶×۷۰ فٹ ہے لیکن اسے ۳۶×۱۰۰ فٹ تک وسیع کیا جاسکتا ہے اگر یہ ہال اِس قدر وسیع ہو جائے تو میرے خیال میں یہ مناسب ہال کہلا سکتا ہے۔اس صورت میں بند گھل جائیں گے اور گیلریاں بند ہو جائیں گی اور اس طرح دو اڑھائی ہزار آدمی