خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 509
خطابات شوری جلد سوم ۵۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء کام ہے۔ اخراجات میں تقدم و تاخر کو ملحوظ رکھا جائے اصولی طور پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے تمام اخراجات میں تقدم اور تاخیر کو ملحوظ رکھنا چاہئے ۔ یعنی ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ جو بھی پروگرام بنایا جائے اور اس کے لئے جو رقوم بھی تجویز کی جائیں آئندہ سالوں میں بجٹ کی توسیع اس سکیم کے تابع ہو اور جب بھی روپیہ میں زیادتی ہو ان تجاویز کو مقدم رکھا جائے تا کہ بے منصوبہ کام نہ بڑھے اور اگر خاص ضرورت کے ماتحت کانٹا بدلنا پڑے تو یا خلیفہ وقت کی سابق منظوری سے تجویز بدلی جائے۔ جس میں صاف لفظوں میں لکھا ہو کہ فلاں فلاں مقدم کام کو مؤخر کر کے اس نئے کام میں روپیہ لگایا جائے اور یا پھر شوری میں پہلے فیصلہ کروایا جائے کہ اس کام کو دوسرے کاموں پر مقدم کیا جائے اور پھر وہ تجویز پیش ہو ۔ اب تو بعض دفعہ مجھ سے کھیل کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ فلاں کام کے لئے اتنی رقم منظور کی جائے اور جب میں منظور کر لیتا ہوں اور بعد میں دریافت کرتا ہوں کہ فلاں کام جس کی منظوری میں پہلے دے چکا تھا وہ کیوں نہیں ہوا تو کہا جاتا ہے کہ آپ کی منظوری سے ہی وہ رقم فلاں کام میں خرچ کر دی گئی ہے۔ حالانکہ ایسے موقعوں پر ضروری ہوتا ہے کہ نام لے کر وضاحت کروائی جائے اور فیصلہ کروایا جائے کہ فلاں کام کی جو منظوری دی گئی تھی اُسے رڈ کیا جاتا ہے اور پھر کسی نئے کام کے لئے کسی رقم کی منظوری کا سوال اُٹھایا جائے ۔ بہر حال ہمارے کاموں میں تقدم اور تاتر کا فیصلہ ہونا ضروری ہے تا کہ مقدم کاموں کو اختیار کیا جا سکے اور بغیر کسی سکیم کے ہمارا کام نہ بڑھے اور نہ روپیہ کا ضیاع ہو۔ میں سب کمیٹیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان امور پر غور کر کے اپنی اپنی رپورٹیں تیار کریں اور میں جماعت کے نمائندگان سے بھی کہتا ہوں کہ اگر وہ یہ دیکھیں کہ جن امور کی طرف میں نے توجہ دلائی ہے ان میں سے کسی بات پر کمیٹی نے غور نہیں کیا تو اس بارہ میں انہیں مجلس شوری میں ترمیم پیش کرنے کا حق حاصل ہو گا ۔ خواہ فنانس کمیٹی کسی بات کی طرف توجہ نہ کرے یا دوسری کمیٹیاں کسی پہلو کو نظر انداز کر دیں۔ اس کے بعد میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور سب کمیٹیوں کے صدر صاحبان سے XXXXXXXXXXXXXXX