خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 508
خطابات شوری جلد سوم ۵۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء اوّل: - وقف ایک سے زیادہ اولاد والوں میں سے کسی ایک کا ہو۔ہم دوسروں کا رستہ بند نہیں کرتے وہ بھی وقف کر سکتے ہیں مگر ایسے قواعد ضرور ہونے چاہئیں کہ مجبوری کے وقت وہ آسانی سے فارغ کئے جاسکتے ہوں۔(۲) وقف صرف بالغ مرد کا ہو۔اکیس سال سے پہلے کے وقف آئندہ نہ لئے جائیں اور گزشتہ وقفوں کو بھی فارغ کرنے کا راستہ کھلا رکھا جائے تا کہ وقف لڑکے کا ہو باپ کا نہ ہو اور اس میں نمائش نہ ہو بلکہ حقیقت ہو۔(۳) اکیس سال سے پہلے جن کو وظائف دیے جائیں جیسے جامعہ احمدیہ وغیرہ میں تعلیم پانے والوں کو دیئے جاتے ہیں، وہ بطور قرض ہوں جو وقف کی صورت میں وقف کے اندر مدغم ہو جائیں اور غیر وقف کی صورت میں وہ صرف قرضہ ہو جو حسب شرائط و معاہدہ وصول کر لیا جائے۔(۴) سابق واقفین جن کی تعلیم پر سلسلہ کا روپیہ خرچ ہوا ہے، وہ بھی محکمہ کے قواعد کے مطابق رقم واپس کر کے فارغ ہو سکتے ہیں۔(۵) جو والدین اپنے بچوں کو وقف کرنا چاہیں وہ امیدواران وقف کی لسٹ میں رہیں۔جب وہ اکیس سال کے ہو جائیں تو اُن سے دوبارہ پوچھا جائے کہ آیا وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے وقف کرتے ہیں یا نہیں۔اگر وہ وقف نہ کرنا چاہیں تو ان کو فارغ کر دیا جائے اور اگر وقف ہونا چاہیں تو ان کا وقف قبول کر لیا جائے۔بہر حال بچوں کو بڑے ہو کر آزاد ہونے کا پورا حق حاصل ہوتا کہ ان کی خدمت چٹی نہ ہو اصلی اور سوچی سمجھی ہوئی قربانی ہو۔میرے نزدیک اس سال کی مجلس شوری میں اس امر پر بھی غور ہونا چاہئے کہ ہماری جماعت کے تاجروں، صناعوں اور زمینداروں کی الگ الگ کمیٹیاں مقرر ہوں۔جن کے نمائندے سال میں کم سے کم ایک دفعہ یہاں آئیں اور باہمی مشورہ کر کے اپنی ترقی کی سکیمیں طے کریں۔تاجر اور صناع جس قدر آ سکیں ان کو اس موقع پر آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اسی طرح زمینداروں کے نمائندے بھی آنے چاہئیں کیونکہ وہ بڑی تعداد میں ہیں۔یہ سر دست ایک مشاورتی کمیٹی ہو جو قربانی تعاون اور ترقی کی روح پیدا کرے اور تحریک سے کام لے نہ کہ جبر سے یہ نظارت امور عامہ کا