خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 479

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۵۲ء اس طرح دو چار گھنٹہ میں بڑی بھاری کتاب بھی ختم ہو جاتی ہے۔میرے نزدیک ایک آدمی نہایت آسانی کے ساتھ اگر وہ مطالعہ کے ساتھ دلچسپی رکھتا ہو تو آٹھ نو سو کتاب بھی ایک سال میں سرسری طور پر پڑھ سکتا ہے اور پچاس، سو کتاب تو عام لوگ بھی پڑھ سکتے ہیں۔میں نے ایک لاکھ کتابوں کے لئے پچاس آدمیوں کا اندازہ لگایا تھا جس کے معنے یہ ہیں کہ دو ہزار کتاب ساری ملازمت میں ایک آدمی کے حصے میں آتی ہے اگر وہ ہر سال پچاس کتاب پڑھے اور پھر ان کے انڈیکس تیار کرے، ان کے مضامین کے خلاصہ جات تیار کرے تو چند سال میں ہی ہمارے پاس تمام کتب کے اس طرح انڈیکس تیا ہو جائیں گے اور تمام علوم کے اس طرح خلاصے تیار ہو جائیں گے کہ عیسائیوں کی طرف سے حملہ ہو، ہندوؤں کی طرف سے حملہ ہو، دہریوں کی طرف سے حملہ ہو، ہم فوراً اُن کا جواب دے سکیں گے اور اُن کے حملہ کا دفاع کر سکیں گے۔بہر حال ایک تو خلافت کی مہمان نوازی کا خرچ اُڑا دو ہاں امداد مستحقین کا خرچ رہنے دو۔اسی طرح موٹر کا بجٹ پرائیویٹ سیکرٹری کے ماتحت رکھ دو اور قیمت موٹر کے علاوہ ماہوار اخراجات کے لئے مناسب رقم تجویز کر دو۔نیز لائبریری کے متعلق علاوہ عملہ کے دس ہزار روپیہ رکھا جائے۔مجھے تو ذاتی طور پر کتابوں کا شوق ہے، تم نہ خریدو گے تو میں تو ضرور خریدوں گا لیکن میں چاہتا ہوں کہ خلافت لائبریری بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو اور اسی غرض کے لئے میں نے اس کی ضرورت کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔بیرونی ممالک میں تعمیر مسجد کی اہمیت تیر استہ بیرونی ممالک میں ساجدی تعمیر کا ہے۔یہ بھی ایک اہم ترین امر ہے اور اسے با قاعدہ طور پر ہمیں اپنے بجٹ میں مدنظر رکھنا چاہئے۔اس وقت بعض اسلامی ممالک میں مسجد میں بنی ہوئی ہیں اور ہمارے دوست ان سے فائدہ بھی اُٹھا رہے ہیں لیکن یورپین ممالک میں تو مسجد کے بغیر ہمارا گزارہ ہی نہیں ہوسکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد اُن کی نگاہ میں ایسی عجیب چیز ہوتی ہے کہ جیسے گاؤں میں سینما یا تھیٹر چلا جائے تو لوگ اُس کو دیکھنے کے لئے ٹوٹ پڑتے ہیں۔اسی طرح یورپین لوگوں نے مسجد کا ذکر صرف سُنا ہوتا ہے مسجد انہوں نے دیکھی نہیں ہوتی۔چنانچہ جب اُنہیں کسی مسجد کا پتہ لگتا ہے تو وہ بڑے شوق سے