خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 472

خطابات شوری جلد سوم ۴۷۲ مشاورت ۱۹۵۲ء تجویز ضروری تھی مگر فنانس کمیٹی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی تو وہ ترمیم کے طور پر اس کو یہاں مجلس میں پیش کر دے۔میری تجویز یہ ہے کہ سر دست ہم کو دس ہزار روپیہ سالانہ کے خرچ سے لائبریری کے کام کو شروع کر دینا چاہئے لیکن دس ہزار روپیہ سالانہ خرچ کرنے کے بھی یہ معنے ہیں کہ ہم اڑھائی سو سال میں پچیس لاکھ روپے کی کتابیں اکٹھی کر سکیں گے۔پس میرا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ہمیشہ دس ہزار روپیہ پر ہی کھڑے رہنا چاہئے۔جوں جوں ہماری تبلیغ بڑھے گی اور چندہ میں زیادتی ہوگی یہ رقم بھی بڑھتی چلی جائے گی۔چنانچہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہم اس خرچ کو کسی وقت لاکھ دو لاکھ بلکہ دس پندرہ لاکھ سالانہ بھی کر سکتے ہیں۔یہ دس ہزار روپیہ صرف کتابوں کے لئے ہو گا۔عملہ جو تھوڑا بہت پہلے بجٹ میں رکھا جا چکا ہے وہ الگ ہوگا۔شاید اس میں بھی کچھ زیادتی کرنی پڑے گی۔لائبریرین کے فرائض کیونکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ لائبریرین کے طور پر ایک ہی نیا آدمی رکھا گیا ہے حالانکہ وہاں کم از کم دو آدمی اور ہونے چاہئیں۔لائبریرین کا کام ایسا ہے کہ اس کے لئے آجکل پاس شدہ آدمی رکھے جاتے ہیں۔پہلے انسان گریجوایٹ ہو اور پھر لائبریرین کا امتحان پاس کرے تب وہ لائبریرین لگایا جاتا ہے ورنہ نہیں۔لائبریرین کے معنے محض چپڑاسی یا کتابوں کی دیکھ بھال کرنے والے کے نہیں ہوتے بلکہ لائبریرین کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ مختلف مضامین کی کتابوں سے واقف ہو۔اور جب اُس سے پوچھا جائے کہ فلاں فلاں مضمون پر کون کون سی کتابیں دیکھنی چاہئیں تو وہ فوراً اُن کتابوں کے نام بتا سکے اور پوچھنے والے کی راہ نمائی کر سکے کہ اسے کس کتاب سے کس قسم کی مددمل سکتی ہے۔اگر یہ صحیح ہے کہ انجمن نے تیسرے آدمی کو نہیں رکھا تو یہ قابل تعجب بات ہے۔تین آدمی بھی درحقیقت لائبریری میں کم ہیں۔میری چھ ہزار کتاب قادیان سے آچکی ہے اور حضرت خلیفہ اول کی ساڑھے چار ہزار کتاب آئی ہے اور حضرت خلیفہ اول کا اندازہ یہ تھا کہ آپ کے پاس ۲۰۔۳۰ ہزار کتاب موجود ہے۔بہر حال چھ ہزار میری کتابیں اور ساڑھے چار ہزار وہ گویا گیارہ ہزار کتابیں ہو گئیں۔گیارہ ہزار کتابوں کے لئے دو آدمی کسی طرح کافی نہیں۔خصوصاً جب ان کو چپڑاسی بھی نہیں دیا گیا۔اب بھی اگر تین آدمی ہوں گے اور چپیڑ اسی ملے گا تو ان کی تمام تر توجہ کتابوں کی عام نگرانی اور جلد بندی تک ہی