خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 461

خطابات شوری جلد سوم ۴۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء اس موقع پر حضور نے اپنے ایک تازہ الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:- وو چند دن ہوئے کہ یہ الہام ہوا۔سندھ سے پنجاب تک دونوں طرف متوازی نشان دکھاؤں گا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نیا فیصلہ صادر ہونے والا ہے۔ذہن میں ڈالا گیا کہ متوازی کا لفظ دونوں طرف کیساتھ لگتا ہے شاید دریائے سندھ کے اس پار اور اُس پار دونوں طرف وسیع علاقے اِس سے متاثر ہوں۔ساتھ ہی ڈالا گیا کہ یہ نشان ہمارے لئے برکت والا ہو گا لیکن برکت والا انذاری نشان بھی ہوسکتا ہے۔اس لئے ہمیں خدا تعالیٰ کا فضل جذب کرنے کے لئے اپنے اندر ایک نیک تبدیلی پیدا کرنی چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کی توجہ حق کے قبول کرنے کی طرف پھرے۔متوازی سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کئی نشان ظاہر ہوں۔اور شاید گزشتہ سیلابوں کی طرح پھر کوئی خوفناک طوفان آئے۔بہر حال خشیت اللہ سے کام لیتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔“ الفضل ۲۵، ۲۷، ۲۸، ۲۹ / مارچ ۱۹۵۱ء )