خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 460

خطابات شوری جلد سوم لد ۔ مجلس مشاورت ۱۹۵۱ء یہ کہنا غلط ہے کہ اس انحطاط کی زد تمام نوجوانوں پر پڑتی ہے۔ کراچی کی جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بعض ایسے نوجوان موجود ہیں جن میں دین کا دین کا ایسا ہی جوش پایا جاتا ہے جیسا کہ پرانے لوگوں میں ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح راولپنڈی کی جماعت بھی ترقی کر رہی ہے وہاں بھی نو جوانوں میں بیداری کے آثار نمایاں ہیں ۔ لیکن پھر بھی کوشش کرنی چاہئے کہ نوجوانوں میں دینی روح ترقی کرے۔ وہ محض نعرے لگا کر ہی دل میں خوش ہونے والے نہ ہوں بلکہ ذکر و فکر میں شغف پیدا کر کے صحیح اسلامی روح کو اپنانے والے بنیں ۔ با لخصوص موجودہ نازک دور میں نو جوانوں کے اندر بیداری کا پیدا ہونا نہایت ضروری ہے۔ جو کام خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے وہ اس بات کا مقتضی ہے کہ ہم آگے ہی آگے قدم بڑھاتے چلے جائیں ۔ جب تک نوجوانوں میں دین کے لئے جوش پیدا نہیں ہوتا اور بحیثیت مجموعی جماعت آگے قدم نہیں بڑھاتی ہم مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ سکتے ۔ ہماری نگاہ تو آج سے زیادہ کل پر ہونی چاہئے ۔ کیونکہ ہم کو ساری دنیا فتح کرنی ہے یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ جوں جوں زمانہ گزرتا جائے ہماری مشکلات کم ہوتی جائیں ۔ اس کے لئے قربانی و ایثار کا مادہ پیدا کرنے اور تبلیغ پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ تبلیغ کی طرف بہت بے توجہی برتی جا رہی ہے ایک تو مبلغ بہت کم ہیں دوسرے ان سے کام نہیں لیا جاتا۔ تحریک کے جو مبلغ باہر سے رخصت پر واپس آتے ہیں انہیں بھی کام پر لگا کر ان کی موجودگی سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں صدر انجمن کا بھی فرض ہے کہ وہ اندرون ملک میں مبلغوں کی تعداد بڑھائے اور پھر انہیں ضرورت اور حالات کے مطابق لٹریچر بھی فراہم کرے۔ لٹریچر ایسے لوگوں تک پہنچانا چاہئے جو واقعی اس سے فائدہ اُٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ لٹریچر دینے سے پہلے لوگوں کے اندر دلچسپی پیدا کرنا ضروری ہے ورنہ وہ اس لٹریچر کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں گے اور ہماری ساری محنت اکارت جائے گی۔ فراہمی لٹریچر کے سلسلے میں نئے ماحول اور نئے رجحانات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا جائے ۔ احمدیت کی لائی ہوئی صداقتوں کو لوگوں کے ذہن نشین کرانے کے لئے حکیمانہ طریق پر عمل کرنا ضروری ہے۔“ 66