خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 443

خطابات شوری جلد سو ۴۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء شائع کیا ہے تو میں ایسے اشتہاروں کی اشاعت کے لئے ایک پیسہ دینا بھی گناہ سمجھتا ہوں یہ تبلیغ نہیں محض کاغذ سیاہ کرنا ہے۔اگر تم صحیح معنوں میں کام کرنا چاہتے ہو تو پہلے تم یہ فیصلہ کرو کے تم نے کرنا کیا ہے؟ اور جماعت کو اس وقت کن مسائل پر قلم اٹھانے کی ضرورت ہے۔مگر یہ تو کبھی فیصلہ ہی نہیں ہوتا اور جو جی میں آجائے اس کے متعلق اشتہار شائع ہو جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جس کا ازالہ ہونا چاہیے اور میں صدرا انجمن احمد یہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ فوراً اس غرض کے لئے ایک کمیٹی مقرر کرے۔اس کمیٹی کے نصف ممبر تحریک جدید کے ہوں اور نصف ممبر صدرانجمن احمد یہ کے ہوں۔اس کمیٹی کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اپنے کام کی ہفتہ وار رپورٹ صدرانجمن احمدیہ کے سامنے پیش کرے اور صدرانجمن احمدیہ کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اپنی ہفتہ وار رپورٹ میرے سامنے پیش کرے۔اس کمیٹی کا یہ کام ہوگا کہ وہ سلسلہ احمدیہ کا قدیم اور جدید لٹریچر شائع کرنے کے لئے ایک مفصل سکیم تیار کرے جو میرے سامنے پیش کی جائے اور پھر منظور شدہ لائنوں پر جماعت کے لئے لٹریچر مہیا کرے۔اس غرض کے لئے کمیٹی کا سب سے پہلا کام یہ ہوگا کہ وہ تمام ممالک کی ایک لسٹ تیار کرے اور پھر اُن زبانوں کی ایک لسٹ تیار کرے جو ان ممالک میں بولی جاتی ہیں اور پھر یہ جائزہ لے کہ ہر ملک کے لوگوں کے لئے کس قسم کے لٹریچر کی ضرورت ہے اور کون کون سے مسائل مخصوصہ ہیں جن کے لئے وہ لوگ ہم سے لٹریچر کا مطالبہ کر سکتے ہیں یا جن مسائل میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ اُن کی راہنمائی کریں۔اسی طرح یہ بھی غور کیا جائے کہ اس وقت ہندوستان اور پاکستان کے لوگ کون کون سے مسائل کو زیر بحث لاتے ہیں اور پھر یہ بھی دیکھا جائے کہ آیا اس مقصد کے لئے ہمارے پاس کوئی سابق لٹریچر موجود ہے یا نہیں۔اگر ہے تو کون کون سا ہے۔پھر اس امر پر بھی غور ہونا چاہیے کہ ہمارے پہلے لٹریچر میں کون کون سے مسائل پر زیادہ تفصیلی مواد موجود ہے جس کا خلاصہ شائع کرنے کی ضرورت ہے اور کن مسائل پر ہمارے پاس کم مواد ہے جن پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔اس طرح تمام امور پر غور کرنے کے بعد عملی کام شروع کیا جائے اور نہ صرف جماعت کو بلکہ غیر ممالک کے لوگوں کو بھی اُن کی زبانوں میں لٹریچر مہیا کیا جائے۔اگر صدرانجمن احمدیہ نے اس رنگ میں