خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 442

خطابات شوری جلد سوم ۴۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء رکھتے ہوئے جدید لٹریچر شائع کریں۔ہمار ا سلسلہ اس وقت مختلف ممالک میں پھیل رہا ہے اور لوگ ہم سے لٹریچر کا مطالبہ کرتے ہیں مگر ہمارے پاس کوئی ایسا لٹریچر نہیں ہوتا جو اُن کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہو۔ابتدائی زمانہ میں احمدیت صرف ہندوستان میں محدود تھی اور یہاں زیادہ تر ان مسائل کا چرچا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں؟ دجال کسے کہتے ہیں؟ یا جوج ماجوج سے کیا مراد ہے؟ آنے والے مسیح اور مہدی کی علامات کیا ہیں؟ جہاد کا کیا مسئلہ ہے؟ یہ اور اسی قسم کے اور دوسرے مسائل پر جماعت نے لٹریچر شائع کیا۔اس کے بعد احمدیت انگلستان میں پھیلی تو عیسائیوں کے مخصوص مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے انگریزی لٹریچر شائع کیا گیا۔لیکن اب ہماری جماعت ایسے ملکوں میں پھیل رہی ہے جن میں اردو تو نہیں بولی جاتی لیکن وہاں مسائل وہی ہیں جو ابتدائی زمانہ احمدیت میں ہمیں پیش آئے یعنی دجال سے کیا مراد ہے؟ مسیح ناصری نے آنا ہے یا نہیں؟ جہاد کی کیا حقیقت ہے؟ مسیح اور مہدی کی پیش گوئیاں کس طرح پوری ہوئی ہیں ایسٹ افریقہ، ویسٹ افریقہ، انڈونیشیا، ماریشس ، مڈغاسکر اور عرب ممالک میں یہی مسائل پوچھے جاتے ہیں۔اور جب وہ ہم سے کہتے ہیں کہ لاؤ اپنا لٹریچر تو ہم اُن کے سامنے وہ لٹر پچر پیش کر دیتے ہیں جن میں ان مسائل کا تفصیلی طور پر کوئی ذکر نہیں ہوتا۔پس جہاں ہمیں جدید لٹریچر کی ضرورت ہے وہاں ہم نے اپنے پرانے لٹریچر کو کہیں عربی زبان میں بدلنا ہے، کہیں انڈونیشین میں بدلنا ہے، کہیں افریقن میں بدلنا ہے اور اس کے لئے بڑی بھاری جد و جہد اور کوشش کی ضرورت ہے۔میہ ایک بہت بڑا علمی کام ہے جو ہماری جماعت نے سرانجام دینا ہے مگر اب تک اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جا رہی اور جو کچھ شائع کیا جاتا ہے بغیر سوچے سمجھے شائع کر دیا جاتا ہے۔نشر واشاعت کی ذمہ داری ہمارے محکمہ نشر واشاعت نے کبھی اس بات کو سوچا ہی نہیں کہ ملک کو کون سے مسائل در پیش ہیں اور کس قسم کے لٹریچر کی لوگوں کو ضرورت ہے محض روپیہ ضائع کیا جاتا ہے اور کاغذ کالے کر کے پھینک دیئے جاتے ہیں۔اگر وہ اس بارہ میں جماعت سے امداد لینا چاہتے ہیں یا مجھ سے روپیہ لینا چاہتے ہیں تو اُن کا فرض ہے کہ وہ پہلے یہ بتائیں کہ اس وقت فلاں قسم کے لٹریچر کی ضرورت ہے اگر وہ ضرورت دیکھتے نہیں اور صرف اتنا کہنا جانتے ہیں کہ ہم نے فلاں اشتہار دو لاکھ