خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 441

خطابات شوری جلد سوم ۴۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اس وقت پاکستان میں عام طور پر صنعت و حرفت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے مگر اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ کمپنیاں جاری کی جائیں۔کمپنیاں جاری کرنے کے لئے بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر ہم لوہار اور ترکھان تیار کر دیں تو ان کمپنیوں پر ہمارا ہی قبضہ ہوگا۔روپیہ اُن کا ہوگا اور مزدور ہمارا ہوگا اور اس طرح ہم آسانی سے ملک کی ترقی میں ایک معتد بہ حصہ لے سکیں گے۔ماسٹر محمد دین صاحب نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ آئندہ بجٹ کے متعلق ایک سٹینڈنگ کمیٹی ہونی چاہیے جو تفصیلی طور پر پہلے تمام بجٹ کو دیکھ لیا کرے اور پھر سب کمیٹی بیت المال کے سامنے پیش ہوا کرے۔میرے نزدیک یہ نہایت معقول بات ہے اور اس کے لئے ہمیں ممبران کے نام تجویز کرنے چاہئیں لیکن پیشتر اس کے کہ ایک سٹینڈنگ کمیٹی مقرر کی جائے میں بعض اور امور کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔یچر کی اشاعت کی ضرورت اس وقت دوستوں کی طرف سے یہ شکایت کی گئی ہے کہ سلسلہ کا لٹریچر شائع نہیں کیا جار ہا لوگ ہم سے لٹریچر مانگتے ہیں مگر ہم اُنہیں کوئی چیز پیش نہیں کر سکتے۔یہ بھی دراصل اُسی غفلت کا نتیجہ ہے جو ہماری نظارتوں میں پائی جاتی ہے۔جب ہم قادیان سے آئے ہیں تو میں لاہور میں روزانہ ایک مجلس شوری منعقد کیا کرتا تھا جس میں صدرانجمن احمدیہ کے تمام ذمہ دار عہد یدار شریک ہوا کرتے تھے اور اُن کے کاموں کا جائزہ لیا جاتا تھا اس مجلس شوریٰ میں سلسلہ کے قدیم اور جدید لٹریچر کی اشاعت کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی گئی اور شمس صاحب اُس کے سیکرٹری مقرر کئے گئے۔چھ مہینے کے بعد میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا کام ہوا ہے؟ تو وہ کہنے لگے تو بہ تو بہ میرے سپرد یہ کام کب کیا گیا تھا میرا تو کبھی نام بھی نہیں لیا گیا۔میں نے اپنے دل میں سمجھا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں ذمہ داری کے عدم احساس کی وجہ سے اُن کا حافظہ پورا کام نہیں کر رہا چنانچہ میں نے کہا اچھا اب سہی۔لیکن اب پھر دو سال گزر گئے ہیں اور کام کچھ بھی نہیں ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ جہاں ہمارے لئے اپنے قدیم لٹریچر کو شائع کرنا ضروری ہے وہاں ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم مختلف قوموں اور ملکوں کی ضروریات اور اُن کے حالات کو مد نظر